انوارالعلوم (جلد 9) — Page 225
۲۲۵ کے پاس بیچ دیتے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ذبح کرنا ناجائز ہے بلکہ یہ کہ اس طرح کام لینا کہ وہ تکلیف سے کام کے ناقابل ہو جائے یہ ناجائز ہے۔(۳) جانوروں کو کھانا کم دینا اور کام زیادہ لیتے رہنا۔اس بُرائی میں زمیندار نہیں مبتلا ہوتے دوسرے ہوتے ہیں۔زمینداروں کو تو دیکھا ہے کہ وہ خود بھوکے رہیں گے مگر جانوروں کے چارے کا ضرور انتظام کریں گے۔مجھے زمینداروں کا یہ فقرہ بہت پسند آتا ہے کہ جب قحط پڑتا ہے تو یہ نہیں کہتے۔ہمارے کھانے کے لئے کچھ نہیں رہا۔بلکہ یہ کہتے ہیں چارہ نہیں ملتا۔(۴) بیمار جانور کا علاج نہ کرنا۔(۵) جانوروں کی تعذیب- داغ دینا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک دفعہ دیکھا ایک گدھے کہ منہ پر نشان لگا ہوا تھا۔آپ نے فرمایا یہاں مت لگاؤ۔کیونکہ اس جگہ حس زیادہ تیز ہوتی ہے۔اگر نشان لگانا ہی ہے تو پیٹھ پر لگا دو۔(۶) جانوروں کی سردی گرمی کا خیال نہ رکھنا۔(۷) جانوروں کے شہوانی جذبات کا خیال نہ رکھنا۔جانوروں میں بھی ایسے ہی قویٰ ہوتے ہیں جیسے انسانوں میں۔اس لئے یا تو اُن کی شہوت دور کرنے کا انتظام کرنا چاہئے یا کوئی اور تدبیر کرنی چاہئے۔(۸) اولاد کی وجہ سے دُکھ دینا۔یعنی اُن کے سامنے اُن کے بچوں کو ذبح کرنا یا بھوکے رکھنا یا اور کسی طریق سے دُکھ دینا۔اَب مَیں تیسری قسم کی بدیاں بیان کرتا ہوں جو قومی بدیاں ہیں: (۱) فحش کی اشاعت کرنا۔اگر کوئی شخص لوگوں میں یہ کہتا پھرتا ہے کہ فلاں شخص جھوٹا ہے تو یہ صرف دوسرے انسان سے تعلق رکھنے والی بدی نہیں بلکہ قومی بدی ہے۔کیونکہ جس قوم میں یہ اعلان ہوتا رہے کہ اس میں جھوٹ بولنے والے بھی ہیں۔اُس میں جھوٹ کی عظمت مٹ جاتی ہے اور اس میں یہ بدی پھیلنے لگتی ہے۔میرے نزدیک فحش کی اشاعت خود کشی ہے۔(۲) نفسانیت- جب قوم کے فوائد کے مقابلہ میں اپنے فوائد ٹھکرائیں تو اپنے فوائد کو مدّ نظر رکھنا اور قومی فوائد کو نظر انداز کر دینا قومی بُرائی ہے۔(۳) فسق و فجور-جیسے کنچنیوں کا پیشے بیٹھنا یا علی الاعلان شراب پینا۔(۴) قومی فرائض کی ادائیگی میں سُستی کرنا۔(۵) تربیت اولاد کی طرف توجہ نہ کرنا۔