انوارالعلوم (جلد 9) — Page 203
۲۰۳ چلتے ہوئے بچہ ایک چیز دیکھ کر کہتا ہے۔یہ لینی ہے۔اگر اُس وقت اُسے نہ لیکر دی جائے تو وہ اپنی خواہش کو دبا لیگا۔اور پھر بڑا ہونے پر کئی دفعہ دل میں پیدا شدہ لالچ کا مقابلہ کرنے کی اس کو عادت ہو جائے گی۔اسی طرح گھر میں چیز پڑی ہو اور بچہ مانگے تو کہہ دینا چاہئے کہ کھانے کے وقت پر ملے گی۔اس سے بھی اس میں یہ قوت پیدا ہو جائیگی کہ نفس کو دبا سکے گا۔زمیندار گنے، مولی، گاجر، گُڑ وغیرہ کے متعلق اسی طرح کر سکتے ہیں۔(۴) بچہ کو مقررہ وقت پر پاخانہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔یہ اسکی صحت کے لئے بھی مفید ہے۔لیکن اس سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اسکے اعضاء میں وقت کی پابندی کی حِسّ پیدا ہو جاتی ہے۔وقت مقررہ پر پاخانہ پھرنے سے انتڑیوں کو عادت ہو جاتی ہے اور پھر مقررہ وقت پر ہی پاخانہ آتا ہے۔یورپ میںتو بعض لوگ حاجت سے وقت بتا دیتے ہیں۔کہ اب یہ وقت ہوگا۔کیونکہ مقررہ وقت پر انہیں پاخانہ کی حاجت محسوس ہوتی ہے۔تو بچہ کے لئے یہ بہت ضروری بات ہے۔وقت پر کام کرنے والے بچہ میں نماز، روزہ کی پختہ عادت پیدا ہو جاتی ہے اور قومی کاموں کو پیچھے ڈالنے کی عادت نہیں پیدا ہوتی۔علاوہ ازیں بے جا جوش دب جاتے ہیں۔کیونکہ بے جا جوش کا ایک بڑا سبب بے وقت کام کرنیکی عادت ہے خصوصاً بے وقت کھانا کھانا۔مثلاً بچہ کھیل کود میں مشغول ہوا۔وقت پر ماں نے کھانا کھانے کے لئے بُلایا مگر نہ آیا۔پھر جب آیا تو ماں نے کہا ٹھہرو کھانا گرم کر دوں۔چونکہ اسے اُس وقت بھوک لگی ہوئی ہوتی ہے اس لئے وہ روتا چلاتا اور بے جا جوش ظاہر کرتا ہے، کیونکہ وہ اُسی وقت کھانے کے لئے آتا ہے جب اس سے بھوک دبائی نہیں جاتی۔اور اس سے نہات شور کرتا ہے۔(۵) اسی طرح غذا اندازہ کے مطابق دی جائے۔اس سے قناعت پیدا ہوتی اور حرص دور ہوتی ہے۔(۶) قِسم قِسم کی خوراک دی جائے، گوشت، ترکاریاں اور پھل دیئے جائیں کیونکہ غذائوں سے بھی مختلف اقسام کے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔پس مختلف اخلاق کے لئے مختلف غذائوں کا دیا جانا ضروری ہے۔ہاں بچپن میں گوشت کم اور ترکاریاں زیادہ ہونی چاہئیں۔کیونکہ گوشت ہیجان پیدا کرتا ہے اور بچپن کے زمانہ میں ہیجان کم ہونا چاہئے۔(۷) جب بچہ ذرا بڑا ہو تو کھیل کود کے طور پر اس سے کام لینا چاہئے۔مثلاً یہ کہ فلاں برتن