انوارالعلوم (جلد 9) — Page 201
۲۰۱ اڑھائی سال کے قریب ہوگی۔ہمارے مُلک میں اگر بچہ سارے کھانے میں ہاتھ ڈالتا اور سارا مُنہ بھر لیتا ہے بلکہ ارد گرد بیٹھنے والوں کے کپڑے بھی خراب کرتا ہے تو ماں باپ بیٹھے ہنستے ہیں اور کچھ پرواہ نہیں کرتے۔یا یونہی معمولی سی بات کہہ دیتے ہیں۔جس سے ان کا مقصد بچہ کو سمجھانا نہیں بلکہ دوسروں کو دکھانا ہوتا ہے۔حدیث میں ایک اور واقعہ بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ بچپن میں امام حسنؓ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور مُنہ میں ڈال لی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُن کے منہ میں انگلی ڈال کر نکال لی۔جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارا کام خود کام کرکے کھانا ہے۔نہ کہ دوسروں کے لئے بوجھ بننا۔غرض بچپن کی تربیت ہی ہوتی ہے جو انسان کو وہ کچھ بناتی ہے جو آئندہ زندگی میں وہ بنتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : ما من مولودٍ الّا یُولد علی الفطرۃ فابواہ یھوّ دانہٖ اوینصرّ انہٖ اویمجّسانہٖ (بخاری و مسلم) کہ بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔آگے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ ماں باپ ہی اُسے مسلمان یا ہندو بناتے ہیں۔اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ جب بچہ بالغ ہوجاتا ہے تو ماں باپ اُسے گر جا میں لیجا کر عیسائی بناتے ہیں۔بلکہ یہ ہے کہ بچہ ماں باپ کے اعمال کی نقل کرکے اور انکی باتیں سُن کر وہی بنتا ہے جو اسکے ماں باپ ہوتے ہیں۔بات یہ ہے کہ بچہ میں نقل کی عادت ہوتی ہے۔اگر ماں باپ اسے اچھی باتیں نہ سکھائیں گے تو وہ دوسروں کے افعال کی نقل کریگا۔بعض لوگ کہتے ہیں بچوں کو آزاد چھوڑ دینا چاہئے خود بڑے ہو کر احمدی ہو جائیں گے۔مَیں کہتا ہوں اگر بچہ کے کان میں کسی اور کی آواز نہیں پڑتی تب تو ہو سکتا ہے کہ جب وہ بڑا ہو کر احمدیت کے متعلق سُنے تو احمدی ہو جائے لیکن جب اور آوازیں اس کے کان میں اب بھی پڑ رہی ہیں اور بچہ ساتھ کے ساتھ سیکھ رہا ہے تو وہ وہی بنے گا جو دیکھے گا اور سُنے گا۔اگر فرشتے اُسے اپنی بات نہیں سُنائیں گے تو شیطان اس کا ساتھی بن جائے گا۔اگر نیک باتیں اس کے کان میں نہ پڑیں گی تو بد پڑیں گی اور وہ بد ہو جائیگا۔پس اگر آپ لوگ گناہ کا سلسلہ روکنا چاہتے ہیں تو جس طرح سگریشن کمپ ہوتا ہے اُس طرح بنائو اور آئندہ اولاد سے گناہ کی بیماری دُور کر دو تا کہ آئندہ نسلیں محفوظ رہیں۔تربیت کے طریق اب مَیں تربیت کے طریق بتاتا ہوں: (۱) بچہ کے پیدا ہونے پر سب سے پہلے تربیت اذان ہے۔جس کے متعلق پہلے بتا چکا ہوں۔