انوارالعلوم (جلد 9) — Page 195
۱۹۵ تفصیل نہیں بیان کی مگر اسکی بیان کرونگا۔کیونکہ تفصیل کے بغیر آپ لوگ اسے سمجھ نہیں سکتے۔بلا اسکے کہ کوئی تحریک کرے یا منوانے کے لئے دلیل دے۔جب کسی خیال کی رو دُنیا میں چلیگی تو وہ متاثر کریگی۔دس بد معاشوں میں ایک اچھے انسان کو بٹھا دو، وہ بد معاش خواہ دل میں بدی رکھیں اور اس پر ظاہر نہ کریں تو بھی اسکے دل پر بُرائی کا اثر ہونا شروع ہوجائیگا۔ایک دفعہ ایک سِکھ لڑکا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اخلاص تھا۔اس نے حضرت خلیفہ اوّلؓ کی معرفت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیغام بھیجا کہ میرے دل میں کچھ دنوں سے دہریت کے خیالات پیدا ہو رہے ہیں۔جب حضرت خلیفہ اوّلؓ نے یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سُنائی تو آپؑ نے فرمایا اسے کہو کالج میں جہاں اسکی سیٹ ہے اُسے بدل لے۔اُس نے ایسا ہی کیا اور بعد میں پتہ لگا۔جس دن سے اُس نے سیٹ تبدیل کی اُسی دن سے اس کے خیالات میں اصلاح ہونی شروع ہو گئی۔اسکی وجہ یہ تھی کہ اسکے دل میں دہریت کے خیالات پیدا ہونے کا سبب ایک دہریہ لڑکے کا قرب تھا۔بغیر اسکے کہ وہ لڑکا اپنے خیالات کو ظاہر کرتا اس کے دلی خیالات کا اثر اُس سکھ لڑکے پر پڑتا رہا تھا۔پس خیالات کی رَو ایسی چیز ہے کہ جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اور یہ بات قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بھی ثابت ہے۔اسکی مثال حیوانوں میں بڑی وضاحت کے ساتھ ملتی ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دو بلّیاں آپس میں لڑنے لگتی ہیں لیکن تھوڑی دیر غوں غوں کرنے کے بعد ان میں سے ایک اپنی دُم نیچی کرکے چلی جاتی ہے اور لڑائی نہیں ہوتی۔اِسی طرح شیروں کے متعلق تجربہ کیا گیا ہے۔چار پانچ کو اکٹھا ایک جگہ چھوڑ دیا جائے تو ان میں سے جو سب سے زبر دست ہوگا وہ کھڑا رہیگا اور باقی اپنی دُمیں نیچی کرکے ادھر ادھر سرک جائیں گے۔اس وقت اگر ان کے درمیان گوشت ڈالا جائے تو صرف وہی کھائیگا جو زبردست ہوگا۔اور باقی بغیر پنجہ مارے چپکے کھڑے رہیں گے۔مسمریزم جو خیالات کی رَو سے ہی متاثر کونیوالا علم ہے اسکے متعلق مَیں ایک دفعہ تجربہ کر رہا تھا تاکہ اس علم کے ذریعہ رُوحانیت پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں انکا جواب دیا جا سکے۔اسوقت ہماری نانی اماّں صاحبہ نے کہا۔یہ یونہی باتیں ہیں، یہ سامنے چڑیا بیٹھی ہے اسے پکڑ کر دکھا دو تو جانیں۔چڑیا دو اڑھائی گز کے فاصلہ پر بیٹھی تھی۔مَیں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالکر اُسے