انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 149

۱۴۹ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسولہ الكريم افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ (فرموده ۲۶ د سمبر۱۹۲۵ء) دنیا کا ہر ایک کام ہی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہوتا ہے اور ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ہم اس بات کے قائل نہیں کہ خدا انسان سے میرا کوئی کام کراتا ہے پھر بھی یہ اس کی صفات کا عین تقاضا ہے کہ دنیا کا ایک ذرہ بھی اس وقت تک حرکت نہیں کر سکتا جب تک خدا کا اِزن نہ ہو۔اگر کوئی زندہ خدا میں تو پھر کوئی زندہ مذہب بھی نہیں۔اور اگر زنده مذہب نہیں تو اس کی خاطر تکلیف برداشت کرنا اموال اور اوقات صرف کرنا بھی عقل کے خلاف ہے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ زندہ خدا ہے اور اس کے حکم سے سب کچھ ہوتا ہے اورعلاوہ اس کے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے خدا تعالی کے امراور اس کے علم اور اس کے فیصلہ سے ہو رہا ہے۔ہماری جماعت کے کاموں میں ایک خاص خصوصیت ہے۔اور وہ یہ کہ ہماری جماعت کے کام تقدیر عام کے ماتحت نہیں بلکہ تقدیر خاص کے ماتحت ہوتے ہیں۔ہر انسان جو لیتا ہے تقدیر عام کے ماتحت لیتا ہے۔اسی طرح ہر قوم جو دنیا میں ترقی اور تنزل کرتی ہےتقدير عام کے ماتحت کرتی ہے۔مگر ہم جو قدم اٹھاتے ہیں تقدیرخاص کے ماتحت اٹھاتے ہیں اور خدا تعالی کی عام تقدیر پر اس کی موید ہوتی ہے۔پس میں سالانہ جلسہ کے شروع کرنے سے قبل جس کی بنیاد خدا تعالی کے ارشاد کے ماتحت اس کے مرسل نے رکھی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی ہمارے تمام کاموں میں برکت دے ہماری نیتوں میں برکت دے ہمارے قلوب درست کرے ہماری کمزوریوں کو معاف کر کے اپنے فضل سے اس کام کو بلند کرے جس کیلئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو بھیجا۔میں احباب سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ دعا میں شامل ہوں تاکہ جو کام ہم شروع کرنے والے ہیں وہ خدا کا کام ہو نہ کہ ہمارا۔اور اس کی ابتدا ہمارے نفوس سے نہ ہو بلکہ خدا تعالی کے اذن سے ہو۔(اس کے بعد لمبی دعا کی گئی اور پھر حضور نے فرمایا:)