انوارالعلوم (جلد 9) — Page 145
۱۴۵ نہیں آئے۔وجہ یہ کہ وصیتوں کے متعلق غلط راستہ اختیار کرلیا گیا ہے۔دراصل ایسے رنگ میں اس کی تعمیل ہونی چاہئے کہ وہ لوگ ایک جگہ جمع ہوں جو واقعہ میں قربانی کرنے والے ہوں اور اس کے لئے جائیدادیں رکھنے والوں کو عام تحریک کرتے رہنا چاہئے۔اسی طرح ایک اور خطرناک نقص پایا گیا ہے جس کی طرف کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں۔اور وہ نقص یہ ہے کہ صیغوں میں یہ میلان بہت کم ہے کہ آمد خود پیدا کریں حتی کہ تجارتی صیغے بھی نقصان میں رہتے ہیں۔آئنده اس بات پر زور دینا چاہئے کہ صیغہ جات نہ صرف خرچ کے مطابق آمد پیدا کریں بلکہ نفع بھی حاصل کریں اور اس حد تک اس پر زور دینا چاہئے کہ اگر کسی صیغہ میں جو آمدنی پیدا کر سکتا ہے ایسا نہ ہو تو اس کے کارکن بدل دیئے جائیں یا ہٹادیئے جائیں۔دنیا میں کوئی تجارتی صیغہ ایسا نہیں ہو گا جو ہمیشہ گھاٹے میں رہے اور اس کا مینجر ہٹایا نہ جائے۔اس نقص کو آئندہ دور کرنا چاہیے۔اور اگر آمد پیدا کرنے والا صیغہ آمد پیدا نہیں کرتا تو کارکنوں کی تنخواہیں کم کر دینی چاہئیں۔افسربدل دینے چاہئیں یا کوئی اور صورت جو مناسب ہو اختیار کرنی چاہئے۔باوجود اس بات کی طرف توجہ دلانے کے میں یہ کہنے سے رک نہیں سکتا کہ یہ باتیں ہماری اصل اغراض نہیں ہیں ہم روپیہ اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ اشاعت سلسلہ ہو۔اور اس کی غرض دنیا میں قیام روحانیت ہے۔اس لئے میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ دنیا میں ہمارا فرض وہ روح پیدا کرنا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے آکر پیش کیا ہے کہ مکالمہ و مخاطبہ کبھی دنیا سے بند نہ ہو۔ہم ایک غیراحمدی کو کہتے ہیں چونکہ تم سے خدا تعالی کا مکالمہ نہیں ہوتا اس لئے تم غلط راستہ پر ہو۔یہی بات ہم عیسائیوں، یہودیوں اور دیگر تمام مذاہب والوں سے کہتے ہیں لیکن اگر ہماری جماعت کا معتدبہ حصہ ایسا نہ ہو جو مکالمہ و مخاطبہ کا شرف رکھتا ہو تو پھر ہم اپنی صداقت کا دنیا کو کیا ثبوت دے سکتے ہیں اس لئے میں تمام کارکنوں کو اور خاص کرمدارس کے کارکنوں اور پھر خصوصاً مدرسہ احمدیہ کے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نئی پود کی ایسی تربیت کریں کہ خداتعالی سے جو ہمارا تعلق ہے وہ قائم رہے۔اگر ہم میں ایک ایسی جماعت نہ ہو جو مکالمہ و مخاطبہ کا شرف رکھتی ہو تو کس طرح ہم دنیا کو یہ منوا سکتے ہیں کہ خدا تعالی کا تعلق اس دنیا میں بھی اپنے پیارے بندوں سے ہو سکتا ہے۔مگر اس کے متعلق کچھ عرصہ سےسستی پائی جاتی ہے۔کوئی خاص تریک تو پہلے بھی نہ تھی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو دیکھ کر لوگوں میں خود بخود اس کی خواہش پیدا ہوتی رہتی تھی۔مگر اب تو جہ کم ہے اور اگر یہی حالت رہی اور خدانخواستہ