انوارالعلوم (جلد 9) — Page 143
۱۴۳ اخراجات سے بڑھ نہ جائے۔(۲) آئندہ صیغوں کے لئے علیحدہ علیحدہ رقمیں مقرر کی جائیں کہ اتنا اتنا خرچ کرنا ہے۔(۳) جو تخفیف کی جائے اس میں غرباء اور زیادہ افراد والوں پر بوجھ نہ پڑنے دیا جائے اور ان پر زیادہ اثر ڈالا جائے جو اسے برداشت کر سکیں اس لئے ایسے کارکن جو زیادہ تنخواہ پاتے ہوں یا جن کے گھر کے افراد کم ہونے کی وجہ سے اخراجات کم ہوں انہیں قربانی کے لئے زیادہ تیار ہونا چاہے۔(۴) آئندہ کے لئے یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن کارکنوں کی تنخواہ میں تخفیف کی جائےوہ تخفیف اس صیغہ کے ذمہ قرض سمجھی جائے۔اگر کسی کی ترقی روکی جائے تو یہ فرض کیا جائے کہ اسے ترقی دی گئی ہے مگر اس کی تنخواہ سے کاٹ رہے ہیں۔پھر جب روپیہ آئے تو وہ ادا کیا جائے۔اس سے یہ خیال رہے گا کہ کارکنوں کا اتنا قرضہ صیغہ جات کے ذمہ ہے۔اور یہ سمجھ کر بے فکری نہ ہوگی کہ اس طرح آمدمیں اضافہ ہو گیا ہے بلکہ یہ خیال رہے گا کہ یہ قرضہ ہے جسے ادا کرنا ہے۔پہلی خرابی کسی وجہ سے ہو اور اس کی ذمہ داری خواہ کسی پر عائد ہوتی ہو اعلیٰ کارکنوں یا ماتحت کام کرنے والوں پر یا جماعت پر کہ اس نے کافی چندہ نہیں دیا اب یہی دو صورتیں ہیں کہ یا تو صیغہ جات میں تخفیف کر کے کام چلایا جائے یا کام بالکل بند کر دیا جائے۔ہر ایک کے نزدیک بہتر یہی ہو گا کہ تخفیف کر کے کام چلایا جائے۔مگر اب کے تخفیف کا اتنا اثر پڑے گا جتنا پہلے کبھی نہیں پڑا اس لئے اس اثر کو وہی برداشت کر سکیں گے جو قربانی کے لئے کھلا دل اور وسیع حوصلہ رکھیں گے۔اس سے دو وقتیں پیدا ہوں گی۔ایک تو یہ کہ کارکن کم ہو جائیں گے اس لئے کام زیادہ کرنا پڑے گا۔دوسرے یہ کہ اخراجات میں مشکلات پیش آئیں گی۔مگر جو اس قسم کی مشکلات کو برداشت نہیں کر سکتا وہ یہاں کام بھی نہیں کر سکتا۔پس ہمیں ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے اور قربانیاں کرتے ہوئے کام چلانا چاہئے۔پس صیغہ جات کا اتحاد بہت سی قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے اگر یہ اتحاد نہ ہوتا تو بھی مشکل ہوتی۔موجودہ حالات میں نہ نظارت قائم رہ سکتی تھی نہ صدر انجمن۔میں نے یہ حالات اس لئے بیان کئے ہیں تا ناواقف لوگ یہ نہ کہیں کہ صیغہ جات کے ملانے کا یہ نتیجہ نکلا ہے۔بلادینے سے اس مشکل میں کچھ کمی ہوگی نہ کہ زیادتی اور ہم اس کام کو سنبھال سکیں گے۔دوسری کمیٹی جو آمد بڑھانے کے لئے تجویز کی گئی ہے اس کے مدنظر یہ باتیں ہوں گی۔اول عام چنده کے علاوہ ہر احمدی ہر سال نصف باہ کی آمدنی دیا کرے۔دوم عملہ کھیل کو بڑھایا جائے۔گورنمنٹ اس عملے پر اپنی آمد کا ۲۵ فیصدی صرف کرتی ہے لیکن ہم دو یا تین فيصدی خرچ کرتے ہیں۔حالانکہ گورنمنٹ کے پاس وصولی کے اور ذرائع کے علاوہ جبر بھی ہے جو ہمارے پاس نہیں۔