انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 139

۱۳۹ دی جاسکتی کہ اسے گولی سے مار دیا جائے۔یہی وہ بات ہے کہ یورپین لوگ ساری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں اور اس میں ان کی کامیابی کا راز ہے۔پس جب تک کامل اطاعت اور پورا تعاون نہ ہو۔اس وقت تک کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی کجا و قوم جو تجربہ میں، وسائل میں اور تعداد میں بستی قلیل ہو وہ کامیاب ہو سکے۔پس آپ لوگوں کو ایک نصیحت تو میں یہ کرتا ہوں کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور اطاعت کا مادہ پیدا کرو۔مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑا ہے کہ اس کی بہت کمی ہے۔جب کوئی افسرکسی سے باز پرس کرتا ہے تو جواب میں درشت کلامی سے کام لیا جاتا ہے۔کم از کم مجھے جو رقعہ لکھا جاتا ہے اس میں یہ ضرور ہوتا ہے کہ فلاں میرا ہمیشہ سے دشمن ہے۔ہمیشہ مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔عورتیں اس لئے زیادہ جہنم میں جائیں گی کہ خاوندوں کا کفر کرتی ہیں۔یہی حال ماتحت کارکنوں کا نظر آتا ہے۔الا ما شاء الله یہ نتیجہ ہے غلامی اور ماتحت رہنے کا کہ ان میں عورتوں والے اخلاق پیدا ہو گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کبھی نیک معاملہ ان سے نہیں کیاگیا۔چونکہ برداشت کا مادہ ان لوگوں میں بہت کم ہے اس لئے جھگڑے بڑھ جاتے ہیں۔اگر کوئی ایک دفعہ ظلم بھی برداشت کرلے تو دوسری دفعہ ظلم کرنے والے کو خود شرم آجائے گی۔حالانکہ بسا اوقات قواعد کی پابندی کرائی جاتی ہے۔اس کے مقابلے میں دوسری طرف یہ دیکھا گیا ہے کہ جو بڑے کارکن ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم سے قواعد کی پابندی نہ کرائی جائے یہ بھی غلط خیال ہے۔اگر وہ قواعد کی پابندی نہیں کریں گے تو چھوٹے کیوں کریں گے۔کہتے ہیں ایران کا بادشاہ کہیں گیا تو اس کے لئے کوئی شخص انڈے لایا مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہااگر میں انڈے لے لوں گاتو کل سرکاری ملازم تم سے دبنے لیں گے۔پس یہ غلط ہے کہ بڑوں سے قواعد کی پابندی نہ کرائی جائے۔ان کے لئے تو زیادہ پابندی ہونی چاہئے کیونکہ اگر کسی رعایت کا کوئی شخص مستحق ہو سکتا ہے تو وہ چھوٹا کارکن ہے جس کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔پس میں بڑوں سے کہتا ہوں کہ قواعد کی پابندی سختی کے ساتھ کریں اور چھوٹوں سے کہتا ہوں کہ اطاعت کا وہ نمونہ دکھائیں کہ یورپ کی فوج بھی ان کے سامنے بات ہو جائے۔پھر آپ کا تعاون اس طرح ہو کہ ہر ایک سمجھے یہ میرا کام ہے مگر باوجود اس کے جو کام دوسرے کے سپرد ہو اس میں دخل نہ دے۔اس کے بغیر تعاون نہیں ہو سکتا۔جب کوئی کام خراب ہونے لگے تو جسے اس کی خرابی معلوم ہو وہ اٹھ کھڑا ہو اور ہر طرح امداد دے۔اور جب کام ٹھیک چلنے لگے تو علیحدہ رہے۔