انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 131

۱۳۱ کام کو بھی نقصان ہوا ہے۔مثلاً کام کرنے والے ایک جگہ جمع ہوئے۔وہاں کوئی اہم کام تھا لیکن دوسری جگہ جانے کی وجہ سے اسے وہیں چھوڑنا پڑا۔اور دوسری جگہ اس کی نسبت کم ضروری کام تھا جسے ایک جگہ سارا کام ہونے کی وجہ سے پیچھے ڈالا جاسکتا تھا۔پھر بعض اوقات بیرونی لوگ بھی پریشان ہوتے تھے کئی دفعہ میرے پاس خط آتے کہ میں سیکرٹری صاحب صدر انجمن کو کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ مبلّغ بھیجو مگر کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔اسی طرح کوئی یہ لکھتا کہ ناظر دعوت و تبلیغ کو تعلیم کے متعلق خط لکھا تھا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ایسے خطوط کے متعلق جو دوسرے صیغہ کے متعلق ہوتے یہاں یہ ہوتا کہ اول تو وہ خط یونہی دفتر میں پڑا رہتا یا پھر پندرہ بیس دن کے بعد اُٹھا کر دوسرے دفتر میں بھیج دیا جاتا۔اسی طرح بعض لوگ جو یہاں کسی کام کے لئے آتے اور وہ کسی ایسے دفتر میں جا کر اس کام کے متعلق کہتے جس کے متعلق وہ نہ ہوتا تو اس وقت والے دوسرے دفتر میں بھیج دیتے۔مثلا ً نظارت کا کام تھا جو صدر انجمن میں جا کر کہا گیاتو انجمن والوں نے نظارت میں بھیج دیا۔دوسری دفعہ صدر انجمن کا کام تھا جسے وہ شخص نظارت میں لے گیاتو نظارت والوں نے انجمن کے ہاں بھیج دیا۔اس سے اس نے یہ خیال کر لیا کہ دونوں صیغے کام نہیں کرنا چاہتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ باہر سے آنے والے حیران ہوتے اور بے چینی پیدا ہوتی تھی۔پھر بعض کام کی ذمہ داریوں کے احساسں میں فرق پڑ جاتا ہے۔ایک فریق کہتاہے دوسرا کرے اور دوسرا کہتا ہے وہ کرے۔اور کوئی بھی پوری ذمہ داری نہیں سمجھتا۔دو علیحده علیحده صیغوں میں یا تو یہ نقص پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک دوسرے کا کام چھیننا جا تے ہیں۔یا پھر پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی فریق بھی اس کام کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتا۔یورپ میں ایسی صورت میں یہ رقابت ہوتی ہے کہ دوسرے کے کام کو بھی اپنا کام قرار دیتے ہیں مگر یہاں چونکہ عام طور پر سستی ہے۔اس لئے اس کے اُلٹ یہ کہتے ہیں کہ فلاں کام ہمارا نہیں بلکہ دوسروں کا ہے۔میں نے یورپ کے وزراء کے متعلق بارہا اس قسم کے جھگڑے پڑھے ہیں کہ ایک وزیر کہتا ہے فلاں کام میرا ہے اور دوسرا کہتا ہے میرا ہے۔میں نے اس قسم کا جھگڑا کبھی نہیں پڑھا کہ ایک وزیر کہے کہ یہ میرا کام نہیں دوسرے کا ہے۔اور دوسرا کہے میرا نہیں اس کا ہے یہ سُستی اور چُستی کی وجہ سے فرق ہے۔یورپ میں تو یہ جھگڑا ہوتا ہے کہ سب میرا کام ہے مگر یہاں یہ کہ فلاں بھی میرا نہیں۔فلاں بھی میرا نہیں۔پس دو مختلف صیغوں کی وجہ سے کام کرنے والوں کی ذمہ داری کے احساس میں فرق پڑ جاتاہے۔