انوارالعلوم (جلد 9) — Page 115
۱۱۵ ہوگی۔اوقاف کے متعلق بھی یہی خیال رہنا چاہئے اور یہی قاعدہ ہونا چاہئے کہ جس غرض کے لئے کوئی وقف ہے اور جس قوم کا وقف ہے۔اس کا انتظام اسی کے ذریعہ سے نہ کہ دوسری قومیں بِلاوجہ اس میں دخل دینے کی کوشش کریں۔قیامِ مکاتب نہایت ضروری ہے۔بغیر تعلیم کے نظام قائم نہیں رہ سکتا۔اور میرے نزدیک تو اگر روپیہ مہیا ہو سکے تو ابتدائی تعلیم ہر مسلمان کے لئے ممکن الحصول بنادینی چاہئے بلکہ ہر مسلمان کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں تعلیم دلوائے۔ہندو مسلم مناقشات و تعلقات ساتواں امر ایجنڈے میں ہندو مسلم مناقشات و تعلقات کا ہے۔اور در حقیقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس کی ضرورت ہی اس سوال کے سبب سے پیدا ہوئی ہے۔اگر ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات درست ہوتے تو اس رنگ میں تنظیم اور سنگھٹن کا خیال بھی شاید پیدا نہ ہوتا۔میری رائے میں ملک کی سخت بد قسمتی ہوگی اگر ہم اس سوال کو حل نہ کر سکیں اگر مسلمان اور ہندو آپس میں محبت سے نہیں رہ سکتے تو وہ ہرگز سیلف گورنمنٹ کے مستحق نہیں۔اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کا یہ خیال ہے کہ ہندوستان آج بھی پوری طرح سیلف گورنمنٹ کے حصول کے قابل ہے بشرطیکہ قومی مناقشات دور ہو جائیں۔اور سَو سال تک بھی سیلف گورنمنٹ کے قابل نہ ہو گا اگر قومی مناقشات دور نہ ہوں خواہ انفرادی طور پر ہندوستان کے باشندے یورپ کے لوگوں سے کتنے ہی زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذّب کیوں نہ ہو جائیں۔میرے نزدیک ہمیں اپنی قومی زندگی کے تحفظ کے مسلمان کرنے کے لئے ہر طرح ہندو مسلم اتحاد کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور ایثار اور قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہے بشرطیکہ وہ قربانی ہماری قومی زندگی کو کمزور کرنے والی نہ ہو۔ہندو مسلم مناقشات کی وجہ جہاں تک میں سمجھتاہوں تمام اختلاف کی بنیاد دو امر ہیں۔(1) اختلاف کے باوجود اتحاد کرنے کی حقیقت نہ سمجھنا اور جو طبعی اختلافات ہیں ان کو بالجبر مٹانے کی کوشش کرنا (۲) اس امر سے آنکھیں بند رکھنا کہ ہندو مسلمانوں میں حقیقتاً سیاسی اختلاف بھی موجود ہے اور اس اختلاف کی موجودگی میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہوسکتی ہے کہ ایسے قواعد بن جاویں جن پر چل کر ہر اک قوم دوسرے کے حملہ