انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 86

۸۶ طور پر اپنے اندر پیدا نہیں کرتے اور جب تک یہ جوش یہ عزم ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا کہ ہم نے خود بھی خدا کو پانا ہے اور دوسری قوت کو بھی جو اس کے صحیح راستے سے بہکی پھرتی ہے اس تک پہنچانا ہے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔جب تک یہ روح ہم میں پیدا نہ ہو تبلیغ کا پوراحق ادا نہیں ہو سکتا اور جب ایسی روح انسان کے اندر پیدا ہو جائے۔تو پھر اس کے کلام میں بھی ایسااثر پیدا ہو جاتا ہے کہ مخالفین کی مخالفت اس کی راہ میں اور اس کے مقصد میں کوئی روک نہیں ہو سکتی۔خدائی تِیر اور اس کی کیفیت وہ ایک خدائی تیر ہوتا ہے جو کبھی خطا نہیں جاتا بلکہ دلوں کے اندر گھس جاتا ہے کیونکہ خدا تعالی کے جلائے ہوئے تیر کبھی خطا نہیں جاتے۔دیکھو موت بھی خدا کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔”ا اليا لا تليش يها مها۔یہی وجہ ہے کہ جس وقت موت آتی ہے تو کوئی روک نہیں سکتا۔بدر کی جنگ میں بھی خدا نے اپنا تیر چلایا تھا جبکہ صحابہ کی مٹھی بھر جماعت نے کفار کے بڑے لشکر کو سخت ہزیمت دے دی تھی۔اس وقت آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے ریت کی مُٹھی پھینکی تھی جس کے متعلق خدا تعالی فرماتا ہے۔وہ تُو نے نہیں پھینکی بلکہ ہم نے پھینکی ہے۔۲؎ پھر خدا کے پھینکنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹی پھینکی اور ادھر زور سے آندھی چلی جس سے ریت اور کنکر اُڑ اُڑ کر کفار کی آنکھوں میں پڑنے شروع ہو گئے کیونکہ جدھر سے آندھی آئی کفار کا اس طرف منہ تھا اور صحابہ کی اس طرف پشت تھی پھر ہو اکارُخ مطابق ہونے کی وجہ سے صحابہ کا نشانہ بھی خوب لگتا تھا اور ان کے تیروں میں زیادہ تیزی اور طاقت بھی پیدا ہو گئی۔اس کے مقابلہ میں کفار کا مخالف ہوا کی وجہ سے نشانہ خطا جاتا تھا کیونکہ آندھی نے ان کی آنکھوں کو اس قابل نہ چھوڑا تھا کہ وہ نشانہ لگا سکتے نتیجہ یہ ہؤا کہ تین سو بے ساز و سامان مسلمانوں نے ایک ہزارباسازوسامان کفار کو مولی گاجر کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔مقناطیسی اثر پیدا کرو پس اگر آپ اپنے قلوب کی اصلاح کریں، اپنے اندر جوش و اخلاص پیدا کریں تو یہ ناممکن ہے کہ تمہارے کلام میں وہ طاقت اور وہ تاثیر خدا تعالی پیدا نہ کرے جو دلوں کو مسخر کرنے والی ہوتی ہے۔اس وقت تمہارا بیان اور تمہارا کلام ایک مقناطیسی اثر پیدا کرے گا جس سےسخت سے سخت دل بھی تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں گے۔پس اگر سچے جوش اور اخلاص کے ساتھ آپ لوگ کھڑے ہوں، اگر درد مند دل لے