انوارالعلوم (جلد 9) — Page 69
۶۹ یہ بھی تھا کہ ان کے علاقہ پر بھی انگریز یا اور کوئی عرب حکومت حملہ نہیں کر سکے گی، گورنمنٹ کی طرف سے کئی لاکھ روپے سالانہ ان کو اس معاہدہ کے بدلہ میں ملتا بھی تھا۔جو بحرین کی انگریزی قنصل کے ذریعہ سے ان کو دیا جاتا تھا اور اسی قنصل کے ذریعہ سے ان سے مراسم دوستانہ طے کئے جاتے تھے۔غرض شریفی خاندان کے کمزور ہونے پر ابن سعود خوش تھے کہ امیر فیصل عراق کے بادشاه مقرر ہوں گے۔امیرابن سعود جانتے تھے کہ سرِدست عراق انگریزوں کے تصرف میں ہے اور نہایت ضرور حالت میں ہے۔اس میں نجد پر حملہ کرنے کی طاقت نہیں۔لیکن ان کو یہ بھی نظر آتا تھا کہ کسی نہ کسی دن عراق طاقتور ہو جائے گا۔انگریزوں کی تربیت میں وہاں کے باشندے جنگی فنون سیکھ جائیں گے اور مالدار بھی ہو جائیں گے۔اس وقت عراق اور حجاز اگر مل کر اس پر حملہ کر دیں تو چونکہ نجد کا علاقہ عراق اور حجاز کے درمیان میں ہے، امیر نجد کو اپنی حفاظت نہایت مشکل ہو جائے گی۔مگر وہ اس وقت کچھ نہیں کر سکتے تھے۔وہ عراق پر حملہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ عراق پر حملہ انگریزوں پر حملہ تھا۔جس کی ان میں تاب نہ تھی۔وہ حجاز پر بھی حملہ نہیں کر سکتے تھے۔کیونکہ وہ انگریزوں سے اسی غرض سے روپیہ لے رہے تھے کہ وہ حجاز پر حملہ نہ کریں گے۔مگر وہ ہوشیار آدمی تھے اگر وہ عراق اور حجاز پر حملہ نہیں کر سکتے تھے تو کم سے کم اس کے لئے تیاری کر سکتے تھے۔چنانچہ اس عرصہ میں انہوں نے خوب تیاری شروع کر دی اور ایک لشکر جرّار تیار کرتے رہے مگر امیر حجاز انگریزوں کی مدد کے بھروسہ پر بالکل مطمئن رہے۔(الفضل ۹جون ۱۹۲۵ء)