انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 42

۴۲ حکومت کابل کی ظالمانہ کارروائیوں پر صبر و سکون سے کام لو محفوظ حصے میں ہی کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ ظالم ظلم کر کے پھر خود منہ کے بل نہ گرا ہو۔صداقت ہمیشہ بلند ہی رہی۔اسی طرح اب بھی ظلم کا خمیازه ظالم ہی کو اٹھانا پڑے گا اور صداقت ہمیشہ بڑھے گی۔کسی کا اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ میں کسی کو مار ڈالنا یا قتل کر دینا صداقت میں شک اور شبہات کا موجب نہیں بن سکتا اور نہ اس سے ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ ہمارا کیا حال اور انجام ہو گا۔صداقت اپنے آپ اپنی جڑ پکڑتی ہے کسی انسان کی مدد کی وہ محتاج نہیں۔جو اپنے پاؤں پر آپ کھڑا ہونے والا ہو اس کو اس امر کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کوئی چھوٹی یا بڑی طاقت اس کی امداد میں کھڑی ہو۔مجھے اس بات کا خیال نہیں اور نہ ہمارے دلوں میں اس قسم کا خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ جس کام اور جس صداقت کے قیام کے لئے خدا تعالی نے ہمیں کھڑا کیا ہے یا وہ لوگ جو احمدی اور حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے اور صداقت دنیا میں پھیلنے سےرک جائے گی۔بلکہ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ امیر کی یہ بالکل بچوں کی سی حرکات ہیں جس طرح بچے اسکول جانے سے انکار کرتا ہے اور باپ اس کو پکڑ کر اسکول لے جاتا ہے۔میں وہ کاتا ہے اور کہیں وہ لاٹھیں مارتا ہے میں کپڑے پھاڑتا ہے کی حالت حکومت کابل کیا ہے وہ لا تھیں مارتی اور میں کالی ہے مگر وہ اخلاقی سکول جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ذرایی کھولا گیا اس میں اس کو ضرور داخل ہونا پڑے گا۔ماں باپ بچے کو اس کی لا تیں چلانے اور کانٹے کی وجہ سے اس کو اسکول لے جانے سے باز نہیں رہتے اسی طرح ان کو بھی اس اخلاقی اسکول میں داخل ہونے کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا۔یا ان کی مثال اس جانور کی ہے کہ جو دولتیاں چلاتا اور بسا اوقات لوگوں کو زخمی بھی کر دیتا ہے۔لین کو نا جانور ہے جس نے آخر کار ان نیچے نہ ڈال دیئے ہوں اور پھر ادھر سے ادھر یکے نہ کھینچتے پھرتے ہوں۔یا گورنمنٹ افغان کی مثال اس نے بل کی ہے جو گردن پر جڑا رکھنے سے پہلو تہی کرتا اور دولتیاں چلاتا ہے۔مگر آخر اس کو جوئے کے نے گردن رکھنی پڑتی ہے۔پہلے بھی آخر جوتے میں گئے اور یہ بھی آخر جوتے ہی جائیں گے اور خدا کا کام ان کو بھی کرنا ہی پڑے گا۔مگر مجھے جو خیال آتا ہے وہ یہ آتا ہے کہ ان کی ان بد بختوں اور وحشیانہ حرکات اور بے وقوفوں کا نتیجہ ان کے حق میں کیا ہو گا۔مجھے جس وقت گورنمنٹ کابل کی اس ظالمانہ اور اخلاق سے بید حرکت کی خبری میں اسی وقت بیت الدعائیں گیا اور دعا کی کہ الی تو ان پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھول اوہ صداقت اور راستی کو