انوارالعلوم (جلد 9) — Page 636
۶۳۶ کرنے والی نہ ہو۔میں امید کرتا ہوں کہ تمام مسلمان اول الذکر کام کی طرف تو خود فوری توجہ کریں گے۔اور دوسری بات کی نسبت اپنی اپنی گورنمنٹوں کی معرفت گو ر نمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں گے اور اپنے منشاء سے آگاہ کریں گے۔اور چونکہ یہ کام امن کے قیام کے لئے ہے اور خود گورنمنٹ کو بدنامی سے بچاتا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ کو اہل ملک کی خواہش کے مطابق قانون کی تبدیلی سے انکار نہیں ہوگا۔ہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دوسرا کام گو عارضی ہے لیکن پہلا کام ایک مستقل کام ہے اور اس وقت تک پورا نہ ہو گا جب تک کہ تمام مسلمان کہلانے والے لوگوں کی مشترکہ کمیٹیاں ہر قصبہ اور ہر شہر میں قائم نہ ہو جائیں گی۔پس اے بھائیو! اٹھو اور اس قسم کی کمیٹیاں جلد سے جلد قائم کرو۔ہمت اور استقلال سے خدا کے دین کی اشاعت اور قوم کی ترقی کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔تب خدا خود آسمان سے تمہاری مدد کے لے آئے گا اور اس کا نور تمہارے آگے آگے چلے گا۔واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین - والسلام مرزا محموداحمد امام جماعت احمدیہ قادیان ۱۰۔اگست ۱۹۲۷ء الانفال :۲۵ کو الاعراف :۱۵۹ ٣ ال عمران :۱۱۱