انوارالعلوم (جلد 9) — Page 581
۵۸۳ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ – ھو الناصر کیا آپ اسلام کی زندگی چاہتے ہیں؟ (رقم فرمودہ جولائی ۱۹۴۷ء) جس سُرعت سے ہندوستان میں حالات بدل رہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آج مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان سو بھی سکتا ہے لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اگر سونا بھی چاہیں تو ان کے لئے ناممکن ہے۔خدا تعالیٰ کے فرشتے انہیں مار مار گراُٹھارہے ہیں۔اور انہوں نے سخت دل دشمن کو ان پر مسلّط کر دیا ہے تاکہ وہ ان کی نیند کو ان پر حرام کر دے۔اب اُن کے لئے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار کر لازمی ہے۔یا تو بیدار ہو کر اپنی زندگی کو قائم رکھیں مرکر زمین کو اپنے وجود سے پاک کر دیں۔سب درمیانی راہیں آج ان پر بند ہیں اور سب دوسرے دروازے آج ان کے لئے مقفّل ہیں۔کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ کے فیصلے نے ہندوؤں میں سے ان لوگوں کو چو بزرگان دین کی ہتک میں لذت محسوس کرتے ہیں اور خدا کے پیاروں کو گالیاں دینا ان کی غذا ہے اس قدر دلیر کر دیا ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ رسول اور نبیوں کے سردار اور پاکیزگی و طہارت کے مجسمہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم فداء أبي و أتی پر ایک سے ایک بڑھ کرناپاک حملے کر رہے ہیں اور ان کی فطرت اس غلاظت اور نجاست پر منہ مارنے سے کراہت نہیں کرتی۔حالانکہ یہ ایسا گندہ فعل ہے کہ انسانیت اس کے خیال سے کانپتی ہے اور شرافت ہے ذکر سے نفرت کرتی ہے۔شریف الطبع لوگ تو معمولی آدمی کو گالیاں دینے سے بھی دریغ کرتے ہیں کُجاہے کہ اس حکم کے مصنف اس پاکباز کو گندے سے گندے الفاظ سے یاد کرتے ہیں جس پر طہارت کو فخر ہے اور پاکیزگی کو ناز۔