انوارالعلوم (جلد 9) — Page 542
۵۴۲ ایک نہ پوشیدہ ہو سکنے والی صداقت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اور کوئی مسلمان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔وہ دن گئے جب ہم سمجھتے تھے کہ ہندو مذ ہب دوسروں کو اپنے اندر شامل نہیں کرتا۔آج ہندوستان کے گوشہ گوشہ سے شد ھی کی آواز آتی ہے۔کونہ کونہ سے سنگھٹن کی پکار اٹھ رہی ہے۔اور شدھی کیا ہے؟ صرف اسلام کو مٹا کر اس کی جگہ ہندو مذہب کو قائم کرنے کا نام ہے اور سنگھٹن کیا ہے؟ صرف اس کوشش کو ایک انتظام اور تدبیر کے ساتھ کرنے کا ذریعہ ہے۔ان تدابیر کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلمان اس قدر کمزور ہو رہے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے۔ہزاروں آدمی جو آج سے چند ماہ پہلے لا الہ إلا الله کہنا اپنے لئے نجات کا موجب سمجھتے تھے آج پتھر کے بتوں کے آگے جھکنا فخرخیال کرتے ہیں۔اور ہزاروں آدمی جو آج سے چند ماہ پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اپنی زندگی کے بہترین اعمال میں سے تصور کرتے تھے آج آپ کو گالیاں دیناثواب کا کام سمجھ رہے ہیں۔پنجاب میں کیا، سندھ میں کیا، یوپی میں کیا اور بنگال میں کیا ہزاروں کی تعداد میں کلمہ گو اسلام سے الگ ہو کر ہندوؤں میں جا ملے ہیں اور آج ہر ایک میدان مسلمانوں کے لئے کربلا بن رہاہے۔؎ ہرطرف کفراست چوشاں ہمچر افواج یزید دین حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدین اس تحریک کے اثر کے نے کئی گھر برباد ہو گئے ہیں۔بچے ماؤں سے اور بیویاں خاوندوں سے جدا کر دی گئی ہیں۔ان گھروں کی چیخ و پکار جو اپنی عورتوں اور بچوں کو دین اسلام کی خدمت کے لئے تیار کرنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن جن کی عورتیں مندروں میں اور لڑ کے گروکلوں میں جا داخل ہوئے ہیں پتھرسے پتھردل کو بھی موم کر رہی ہے۔اور اگر یہی حالت دیر تک قائم رہی تو اسلام کا نام اسی طرح ہندوستان سے مٹ جائے گا جس طرح کہ وہ سپین سے مٹ گیا تھا۔اسلام کے دشمن ہیں وہ لوگ جو ان حالات کو دیکھ کر بھی بیدار نہیں ہوتے اور جاہل ہیں وہ اشخاص جو اس حالت کو مشاہده کرتے ہوئے بھی مسلمانوں کو تھپک تھپک کر سُلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر آج مسلمان۔بیدار نہ ہوئے تو قیامت تک بیدار ہونے کا موقع نہ ملے گا۔اور ایک دن آئے گا کہ ان کی آنکھیں اس حالت میں کھلیں گی کہ ہندوستان کے آسمان پر شرک کی گردو غبار کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا۔بے شک بہت سے مسلمانوں کے دل میں درد ہے اور جلن ہے اور وہ اس حالت کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں لیکن غم اور غصہ سے بنتاکیا ہے۔دشمن ہمارے ریزولیوشنوں کا سن کر اور جوش کودیکھ کر ہنستا ہے اور کہتا ہے کہ میرا مقابلہ اس قوم سے ہے جسے صحیح جدوجہد کے طریق