انوارالعلوم (جلد 9) — Page 408
۴۰۸ ہیں جب کہ ہم اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔تو کل دوسروں کو تو ضرورہی قتل کر کے اسلام کو بدنام کریں گے۔اور اس پر سواۓ سید رضا علی اور محمد علی صاحب کے باقی سب نے نہ صرف خود ہمارے خلاف آواز اٹھائی بلکہ ہمارے موافق آواز اُٹھانے والوں کو بھی روکا بلکہ خوشی اور مبارکبادی کی تاریں دیں۔انہوں نے کہا کہ خدا کی پیدا کی ہوئی کا مار دینا ہی اچھا فعل ہے۔خدا نے کہا۔آؤ۔ہم تمہارے ہی ہاتھوں اچھا فعل کرا کے تمہارے ہی منہ سے اقرار کرائیں گے کہ یہ بُرا فعل ہے اور تمہیں جھوٹا اور منافق ثابت کریں گے۔ایک لا إله إلا الله ، و الل کہنے والے مسلمان پر پتھر برسائے جاتے ہیں۔ایک ایک قطرہ خون کا بہا کر ایک ایک دانت توڑا جاتا ہے۔ایک ایک ہڈی توڑی جاتی ہے۔یہ موذی محمد رسول اللہ کی گدی پر بیٹھنے کادعوی ٰکرنے والے مبارکبادی کی تاریں دیتے ہیں۔آج ان کی شرافت اور دعویٰ اسلام کہاں سے آگیا اور اُس وقت کہاں چلا گیا تھا۔اُس وقت ایک مسلمان ایک لا إله إلا الله کہنے والے کے قتل پر تو درد پیدا نہ ہؤا آج ایک ہندو لیڈر پر درد پیدا ہو رہا ہے۔یہ منافقانہ درد ہے۔وہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے مرتد کے لئے وہ فتویٰ دیا تھا کیونکہ کو اس سے مدت پہلے ہر کافر کے قتل کا فتویٰ دے چکے تھے۔پس آج اگر کوئی شردھانند کا قاتل ہے تو وہ عبدالرشید نہیں بلکہ وہ مولوی اور لیڈر ہیں جنہوں نے قتل کے فتوے ہے اور اگر کوئی قابل سزا ہے عبدالرشید نہیں کہ وہ مولوی ہی ہیں جنہوں نے اِنسان کی جان کو بیدردی سے تلف کرنے کے فتوے دیئے۔إبن سعود کی حکومت اور اس کے متعلق ہمارا رویہ اس کے بعد میں ایک سیاسی مسئلہ پر کو بیان کرنا ہوتا ہوں۔وہ یہ کہ عرب اور حجاز میں جو اختلاف ہے اس کے متعلق ہماراکیا رویہ ہونا چاہئے۔اس اختلاف کے باعث نہایت افسوس ناک اور عبرتناک فسادات ہوئے ہیں اس لئے اس مسئلہ کے متعلق جتنا مسلمان فکر کریں اتناہی تھوڑاہے۔یہ معاملہ عجیب عجیب رنگ اختیار کر رہا ہے۔پہلے جب عرب ترکوں سے علیحدہ ہوئے تو ہندوستان کے مسلمان عربوں کے خلاف ہو گئے اور اِبن سعود کے ساتھ تھے اور اس کی تائید میں تھے۔جب اِبن سعود بادشاہ بنا تو اس کے خلاف ہو گئے۔یہ واقعات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ عربوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت نہیں کی تھی بلکہ اسلام کی حفاظت کے لئے وہ اثنائے جنگ میں ترکوں سے علیحدہ ہو گئے۔اصل بات یہ ہے کہ