انوارالعلوم (جلد 9) — Page 371
۳۷۱ خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔کیونکہ کنز میں لکھا ہے کہ حرکت سے نماز ٹوٹ جاتی ہے نادان مصنف ہفوات بھی اس پٹھان کی طرح نہیں جانتا کہ شریعت کے احکام کا بیان کرنا رسول کا کام ہے نہ مصنف ہفوات جیسے لوگوں کا جو کنویں کے مینڈک کی طرح ایک محدود دائرے میں چکر لگاتے رہے ہیں اور قانون قدرت کی وسعت اور احکام شریعت کی غرض اور غایت سے ایسے ہی نابلد ہیں جیسے کہ ایک جانور ایجادات انسانیہ سے۔خدا کے رسول نے جب ایک کام کر کے دکھا دیا تو اس کے خلاف جو مسئلہ کوئی بیان کرتا ہے وہ لغو اور بے ہودہ ہے اور اس سے اس مسئلہ کے بیان کرنے والے کی جہالت اور حماقت سے زیادہ اور کچھ ثابت نہیں ہوتا سوائے اس صورت کے کہ اس سے نادانستہ ایسامسئلہ بیان ہوا ہو جو اقوال وافعال رسالت مآب کے خلاف ہو۔مصنف ہفوات کو یاد رکھنا چاہئے کہ خوش الحانی سے شعر پڑھنایا سننا ایک فطری تقاضا ہے اور بچپن سے اس کی لذت روح انسانی میں رکھی گئی ہے اور اسلام دين الفطرت ہے۔خدا کا کلام اور اس کا فعل مخالف نہیں ہو سکتے۔جس خدا نے یہ جذبہ انسان کے اندر رکھا ہے وہ اس جذبہ کے صحیح استعمالسے اسے روک نہیں سکتا تھا۔باقی رہا دوسرا سوال کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو حبشیوں کا ناچ کیوں دکھایا اور غیر محرم پر نظر کیوں ڈلوائی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں اعتراضات بالکل باطل اور جھوٹے ہیں۔نہ رسول کریم نے حضرت عائشہ کو ناچ دکھایا نا غیر محرموں پر نظر ڈلوائی ہے۔اور مصنف ہفوات نے دیدہ و دانستہ یہ اعتراض کیا ہے کیونکہ جو احادیث انہوں نے نقل کی ہیں وہی ان اعتراضات کو رد کر رہی ہیں۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔وكان يوم عيد يلعب السودان بالدرق والحراب فاما سالت رسول الله صلى الله عليه و سلم وإما قال أتشتھين تنظرين فقلت نعم فأقامنى وراء خدی، على خدہ وھو یقول دونكم يابني آرفدة ، حتى إذا ملت قال حسبک قلت نعم قال فاذھبی- ۱۰۴؎ " یعنی عید کا دن تھا اور حبشی لوگ ڈھالوں اور برچھوں سے کرتب کررہے تھے مجھے یاد نہیں کہ میں نے خود کہا یا رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کیا تو دیکھنا چاہتی ہے؟ اس پر عائشہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہاں۔پس آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور آپ کی گال کے ساتھ میری گال لگی ہوئی تھی پھر آپ نے فرمایا اپنا کام کئے جاؤ اے بنوارفده! یہاں تک کہ جب میں ملول ہو گئی آپ نے فرمایا بس؟ میں نے کہاہاں۔آپ نے فرمایا اچھاجاؤ۔