انوارالعلوم (جلد 9) — Page 367
حضرت عائشہ کا ہے اجازت حضرت زینب کے گھر میں جانا ایک اعتراض مصنّف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ ابن ماجہ باب معاشرة النساء میں روایت ہے کہ ’’مجھے معلوم نہ تھا کہ حضرت زینب مجھ سے ناراض ہیں اور میں نے اجازت اندر چلی گئی انہوں نے کہا یا رسول اللہ جب ابوبکر کی بیٹی اپنا کرتا اُلٹ دے تو آپ کو کافی ہے‘‘۔اس پر مصنف ہفوات کو یہ اعتراض ہے کہ (1) کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم في الواقع ایسے ہی تھے جیسا کہ حضرت زینب نے بیان کیا ہے (۲) کیا حضرت زینب ایسی تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کریں (۳) کیا حضرت عائشہ ایسی ناواقف تھیں کہ بِلا اجازت گھر میں گھس گئیں۔ان تینوں سوالوں میں سے پہلے کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز ایسے نہ۔تھے کہ آپ کے دل پر کسی انسان کی یا کسی مخلوق کی محبت اس طرح حاوی ہو جائے کہ ماسواء کو بُھلا ہے اور نہ حضرت زینب کے قول کا یہ مطلب ہے کہ آپ ایسے ہیں۔بلکہ اصل الفاظ حدیث کے یہ ہیں کہ ا حسبک اذا قلبت لک بنیہ ابی بکر ذریعتیھاترجمہ۔کیا کافی ہے آپ کے لئے کہ جب ابو بکر کی لڑکی اپنی باہوں کو ننگی کرے۔مصنف ہفوات کیا کے لفظ کو اُڑا کر خالی کافی ہے پر کفایت کر لیتے ہیں اور اس پر اعتراض بھی وارد کر دیتے ہیں لفظ ’’کیا‘‘ ایسے موقع پر کئی معنے دیتا ہے کبھی اس کے معنے تردید کے ہوتے ہیں یعنی ایسا نہیں ہے کبھی اس کے معنے سوال کے ہوتے ہیں کیا یہ بات درست ہے؟ اور کبھی اس کے معنی تعریف کے ہوتے ہیں یعنی ایک شخص کی کی نسبت کوئی بات کہتا ہے یا سمجھتا ہے تو اس پر طنز کرنے کے لئے ایسے الفاظ کہہ دیئے جاتے ہیں اور کبھی اس کے معنی ایک بات کے اثبات کے بھی ہوتے ہیں یعنی سوال سے مراد کسی امر کا اقرار ہوتا ہے نہ کہ سوال۔لیکن یہ معنی بعید مجاز کے ہیں اور اسی وقت اس کے یہ معنی کئے جا سکتے ہیں جب کہ اصل معنے یا مجاز قریب کے معنے نہ لئے جاسکیں یا قرینہ ان پر شاہد ہو۔اس جگہ اس کے معنی حقیقی یا مجاز قریب کے لئے جاسکتے ہیں۔اور وہی برمحل ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ بات کو پِھرا کر کہیں کا کہیں لے جایا جائے۔بات صاف ہے کہ حضرت زینب استفهام انکاری کے طور پر کہتی ہیں کہ کیا عائشہ کا اپنی باہوں کو ننگا کر لینا آپ کے لئے کافی ہے؟ یعنی ایسا نہیں