انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 357

۳۵۷ حق الیقین گڑیوں کی کھیل ایک نہایت مفید کھیل ہے اور اس سے لڑکیاں سینے پرونے اور امور خانہ داری کی تعلیم نہایت سہولت سے اور بِلا طبیعت پر بوجھ پڑنے کے حاصل کر لیتی ہیں۔روزے میں زبان چوسنا ایک اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ سنن ابو داؤد کی کتاب الصوم میں حضرت عائشہ کی روایت درج ہے کہ ان النبی صلى الله عليه وسلم كان يقبلها وھوصائم ويمص لسانھا۔۸۲؎ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بوسہ دیا کرتے تھے اورانحالیکہ آپ روزہ دار ہوتے تھے اور اسی طرح آپ ان کی زبان چوستے تھے۔اس پر مصنف ہفوات یوں اعتراض کرتے ہیں۔’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ما عبدناك حق عباد تک کو ہم مقام تواضع و انکسار میں سمجھتے تھے لیکن روزہ میں زبان چوسنے سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی عبادت کی واقعیّت بیان کی ہے‘‘۔’’ ایمان سے بولو کیا خدا کے رسول روزہ میں ایسا عمل کر سکتے ہیں؟ کیا ایسارسول امت کی ہد ایت کر سکتا ہے؟ الہٰی توبہ توبہ"۔یہی اعتراض مصنّف ہفوات نے صفحہ ۴۵۔ایڈیشن اول وصفحہ ۷۰ ایڈیشن ثانی پر بعنوان ’طغیانی درتقبیل و مباشرت رسول بہ صوم ‘‘درج کیا ہے۔میں اس کو بھی اس اعتراض کے ساتھ شامل کر لیتا ہوں کیونکہ اعتراض ایک ہی قسم کا ہے۔اس جگہ مصنف ہفوات نے بخاری کتاب الشؤم باب المباشرة إلایم کی یہ حدیث درج کیا ہے عن عائشة قالت كان النبي الا يقبل ويباشر وھو صائم حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی کریم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے۔اس حدیث پر صاحب ہفوات نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ’’باب اول میں ہم لکھ چکے ہیں کہ بحالت سوم اپنی زوجہ کا بوسہ لینا حرام نہیں لیکن مکرور ضرور ہے۔پس پیغمبر معصوم کا فعل مکروه اختیار کرنا عقل سے بعید ہے اب تقبیل کے بعد بے حیا راوی نے مباشرت کا لفظ کہا ہے۔جو بحالت صوم بمعنی اقرب بمواقعت ہے اور وہ حرام ہے نتیجہ رسول مرتکب حرام ہوۓ لہٰذا رسالت سے موقوف‘‘۔اس کے بعد باب القبيلة إلایم میں سے حضرت عائشہ کی یہ حدیث نقل کی ہے کَان