انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 344

۳۴۴ حق الیقین اس تعلق کو ظاہر کر کے ایک گہرا نقش اس کے دل میں جمایاجاتاہے۔میں نے خود کی دفعہ اللہ تعالیٰ کو انسانی شکل میں دیکھا ہے اور مضمون رویا کے مطابق اس کی شكل مختلف طور پر دیکھی ہے۔میں ہرگز نہیں بنتا کہ وہ شکل ندانی یا اس میں خداتعالی حلول کر آیا تھا۔لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک جلوہ تھی اور اس رویا کے مضمون کے مطابق الہٰی صفات کی جلوہ گری پر دلالت کر رہی تھی وہ ایک رؤیت تھی مگر تصویری زبان میں۔اور اس تعلق کو ظاہر کرتی تھی جو اللہ تعالیٰ کو مجھ سے کیا ان لوگوں سے تھا جن کے متعلق وہ رؤیا تھی حضرت استاذی المکرم مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول اپنی طالب علمی کے زمانہ کا ایک واقعہ سناتے تھے کہ ایک دفعہ آپ کے استاذ مولوی عبدالقیوم صاحب بھوپالوی نے جو مجّدد عمر حضرت سیّد احمد صاحب بریلوی کے خلفاء میں سے تھے خواب دیکھا کہ ایک شخص کوڑھی اندھا اور دیگر ہر قسم کی بیماریوں میں مبتلا بھوپال کے باہر پُل پر پڑا ہے اس سے آپ نے پوچھا کہ تم کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں اللہ میاں ہوں۔انہوں نے کہا اللہ میاں تو سب حُسنوں کا جامع ہے اور سب عیبوں سے پُر ہے تو اس نے کہا کہ وہ بھی درست ہے لیکن میں بھوپال کے لوگوں کا خداہوں یعنی انہوں نے مجھے ایسا سمجھ چھوڑا ہے۔غرض خدا تعالی کی رؤیت کئی بناء پر کی صورتوں میں مومن کو ہوتی ہے اور اس سے ایمان کی زیادتی کا موجب بنتی ہے اور اس پر اعتراض کرنا ایک جاہل اور نادان انسان کا کام ہوتا ہے واقف حقیقت اس گڑھے میں نہیں گرتا۔پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت ہوئی ہو تو اس میں کچھ تعجب کی بات نہیں اور یہ اعتراض کا مقام نہیں اکثر دفعہ رؤیا کی تعبیر ناموں کے معنوں پر ہوتی ہے۔اگر ایسی رؤیا کسی کو ہو تو اس کے معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ایک سلسلہ بخشے گا جو ہمیشہ قائم رہے گا کیونکہ عائشہ کے معنے زندہ رہنے والی کے ہیں اور اس نام کی عورت کی شکل میں اگر اللہ تعالیٰ اپنا جلوہ ظاہر کرے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ یہ جلوہ نہ مٹنے والا ہے اور عورت اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ جلوہ امت کے متعلق ہے جو مؤنث ہے۔ایک رؤیاپر اعتراض کرنا کو رباطنی اور روحانیت سے حرمان پر دلالت کرتا ہے۔نجات رسول از سکرات بلُعاب عائشہ ایک اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ فردوس آسیہ میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے وفات کے وقت مسواک چبوائی تاکہ آپ پر