انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 292

۲۹۲ خلاصہ کلام یہ کہ مصنف ہفوات کا احراق واِحکاک کا مشورہ خیر خواہی و نیک طلبی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم ان لوگوں کے کام پر پردہ ڈالنے کے لئے ہے جنہوں نے خدمت اسلام میں رات اور دن کو ایک کر دیا۔اگر مصنّف ہفوات یہ مشورہ نہ دیتے بلکہ سیدھی طرح یہ بات کہہ دیتے کہ باوجود ان لوگوں کی کوششوں کے بعض کو تاہیاں بھی ہو گئی ہیں تو ان کو خوف تھا کہ اس طرح لوگوں کے دل سے محدثین کی عظمت نہ مٹے گی اور وہ کہدیں گے کہ ہاں انسان سے غلطی ہو جاتی ہے اور یہ بات پہلے بھی مسلمان مانتے ہی تھے کہ محدثین غلطی سے پاک نہیں ہیں۔بعض دفعہ انہوں نے ایک حدیث کو کمزور سمجھا ہے اور وہ بعد میں صحیح ثابت نہیں ہوئی۔اور بعض دفعہ انہوں نے ایک حدیث کو کمزور سمجھا ہے اور وہ بعد میں کمزور ثابت نہیں ہوئی۔انہوں نے ایسے الفاظ استعمال کئے جن سے دوسروں پر تو کچھ اثر ہو یا نہ ہو مگر ان کا بُغض نکل گیا اور اپنی اس عادت سبّ و شتم کو جو گرد و پیش کے اثرات سے متاثر ہو کر طبیعت ثانی ہو چکی ہے انہوں نے پورا کرلیا مگر کیا چاند پر تھوکنے سے چاند کا کچھ بگڑتا ہے؟ تھوکنے والے کے منہ پر تھوک آپڑتا ہے اور اسی کی فضیحت ہوئی ہے۔میرے نزدیک مصنّف ہفوات کا یہ طریق سبّ و شتم زمانہ کے حالات کو مدنظر رکھ کر بھی نہایت خطرناک ہے اس وقت مختلف قم کے مصائب اور آلام نے مسلمانوں پر یہ روشن کر دیا ہے کہ خواہ ان میں مذہی طور پر کسی قدری اختلاف کیوں نہ ہو ان کو اپنی ہستی کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر بے جا حملہ کر کے موانست اور مواسات کے تعلقات کو قطع نہ کریں۔اختلافِ مذاہب کو قربان نہیں کیا جا سکتا لیکن اس اختلاف کے اظہار کا طریق یہ نہیں کہ ایک دوسرے کے بزرگوں کو گالیاں دی جائیں۔اگر ہم ایسے مذہب کے بزرگوں کا بھی ادب کر سکتے ہیں جن کے ساتھ ہمیں نہایت کم وجہ اشتراک پائی جاتی ہے تو ایک کتاب کو ماننے والے اور ایک رسول کی امت کہلانے والے لوگوں کو جو دوسری کسی قوم میں بزرگ مانے جاتے ہوں کیوں ادب سے یاد نہیں کر سکتے۔اس وقت تک اسلام کو کافی نقصان اس قسم کے اختلافات سے پہنچ چکا ہے اور اگر باوجود خدا تعالی کے قہری نشانوں کے اب بھی دشمنی اور عداوت کے بے محل استعمال کر نہ ترک کیا گیا تو اس رویہ کے اختیار کرنے والے افراد اور ان کے افعال پر خوش ہونے والی جماعتیں ایک ایسا روز بد دیکھیں گی کہ دشمنوں کو بھی ان پر رونا آۓ گا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ شیعہ سنی اور دیگر ناموں سے یاد کئے جانے والے فرقے اپنے مذہب