انوارالعلوم (جلد 9) — Page 222
۔۲۲۲ دینے پر ہی پھوڑ دیتا۔نئی گالی دلوانے کی کیا ضرورت تھی۔مگر وہ ہر دفعہ یہی کہتا جاتا کہ اب گالی دو تو سر پھوڑ دوںگا۔آگے سے دوسرا کہتا۔سو دفعہ گالی دوں گا مگر دیتا نہ تھا۔مَیں اس وقت آٹھ سال کا بچہ تھا اور اس نظارہ کو دیکھ کر وہاں کھڑا ہو گیا تھا مگر باوجود اس انتظار کے کہ ایک گالی دے اور دوسرا سر پھوڑے کچھ بھی نتیجہ نہ نکلا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ اپنی اپنی دوکان پر چلے گئے۔اور اُسوقت ایک نے دوسرے کو پھر گالی دی اور دوسرا باہر آکر پھر کہنے لگا کہ اب گالی دو تو مزا چکھائوں۔بہت دیر تک وہ اسی طرح کرتے رہے۔یہ چھچھوراپن ہے اور بُزدلی کی علامت ہے۔اسی طرح سزا میں حد سے زیادہ سختی کرنا بھی چھچھوراپن ہے۔یا ذرا کسی سے تکلیف پہنچی اور شور مچا دیا یہ بھی چھچھوراپن ہے۔مَیں نے دورانِ تقریر میں سوال کرنے سے روکا ہوا ہے۔مگر یہ مضمون چونکہ اہم ہے اس لئے بعض سوالات جو دوستوں نے کئے ہیں اُن کے جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں ایک دوست پوچھتے ہیں کہ کونسے پیشے ذلیل ہیں۔اس سوال کے ذریعہ وہ مجھے ایسے دلدل میں گھسیٹ کر لے جانا چاہتے ہیں جس میں جانا نہیں چاہتا۔مگر مَیں اُن کو جواب نہ دینا بھی نہیں چاہتا۔اس لئے بتاتا ہوں کہ وہ پیشے ذلیل ہیں جو انسان کو موجودہ حالت سے آئندہ ترقی میں روک پیدا کریں۔ایک سوال یہ کیا گیا ہے کہ حقہ پینے والے کی وصیت منظور ہو سکتی ہے یا نہیں؟ یہ چونکہ پیچیدہ سوال ہے اس لئے اس وقت اس کا جواب نہیں دیتا۔ایک سوال یہ پوچھا گیا ہے کہ طمع اور حرص میں کیا فرق ہے۔اس کا جواب یہ ہے طمع تو یہ ہے کہ انسان دوسرے سے اُمید رکھے کہ فلاں چیز مجھے دے دے۔اور حرص یہ ہے کہ فلاں چیز مل جائے خواہ کہیں سے مل جائے۔(۵) گالیاں دینا۔اسے ہر جگہ کے لوگ بُرائی سمجھتے ہیں۔لیکن پنجاب میں رواج ہے کہ بچہ سے کہتے ہیں کہ فلاں کو گالی دو اور جب وہ گالی دیتا ہے تو ہنستے ہیں۔گویا ان کے نزدیک معراج گالی دینا ہی ہے۔یہ واقعہ مَیں نے خود بھی دیکھا ہے۔(۶) لعنتیں ڈالنا۔(۷) بد دُعا- لعنت اور بد دُعا میں مَیں نے فرق کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بد دُعا انسان کی جسمانی حالت کے متعلق ہوتی ہے اور لعنت روحانیت کے متعلق ہوتی ہے۔مثلاً جب کوئی یہ بد دُعا دیتا ہے کہ فلاں مر جائے تو یہ بد دُعا ہے اور جو کہتا ہے۔فلاں پر لعنت ہو۔اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اُس کا دل ناپاک ہو جائے۔