انوارالعلوم (جلد 9) — Page 220
۲۲۰ کے سخت مخالف تھے۔اور جو لوگ یہاں آتے وہ انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے ان کی عادت تھی کہ اپنے صحن میں چار پائیاں بچھا کر حقہ رکھ دیتے۔لوگ حقہ کو دیکھ کر جاتے اور وہ گمراہ کرنے کی کوشش کرتے۔اور کہتے ہم ان کے رشتہ دار ہیں اور ان کے حالات سے واقف۔اگر کوئی بات ہوتی تو ہم نہ مان لیتے۔اس طرح کئی لوگوں کو ٹھوکر لگ جاتی۔ایک دفعہ ایک احمدی آیا اور حقہ پینے ان کے پاس چلا گیا۔اُسے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف باتیں سناتے رہے۔لیکن جب وہ خاموش بیٹھا رہا تو پھر اس کے سامنے حضرت مسیح موعودؑ کو گالیاں بھی دیں۔اس پر بھی وہ کچھ نہ بولا۔آخر اُسے کہنے لگے تم کس سوچ میں ہو۔کیوں کوئی بات نہیں کرتے۔وہ کہنے لگا۔مَیں اس سوچ میں ہوں کہ حقہ کی خبیث عادت مجھے یہاں لائی۔اگر یہ نہ ہوتی تو مَیں نہ یہاں آتا اور نہ حضرت صاحب کے خلاف باتیں سُنتا۔اِس وقت مَیں ضمناً یہ کہدینا چاہتا ہوں کہ پہلے بھی کئی بار اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ حقہ بہت گندی چیز ہے۔اِسی طرح دوسرے نشے بھی سخت مضر ہیں۔ان کو ترک کر دینا چاہئے۔بعض نشے ایسے ہیں جن کی وجہ سے جھوٹ کی عادت پڑتی ہے۔مَیں ان کے نام نہیں لیتا تا کہ جو ان کے عادی ہیں۔ان کے متعلق بد ظنی نہ پیدا ہو۔مگر یہ بات بالکل سچی ہے بعض نشوں سے اعصاب پر خاص اثر پڑتا ہے۔اس لئے کسی نشہ کی بھی عادت نہیں ڈالنی چاہئے۔مجھے کسی چیز کی عادت نہیں ہوتی۔مجھے بچپن میںبیماری کی وجہ سے افیون دیتے تھے۔چھ ماہ متواتر دیتے رہے مگر ایک دن نہ دی تو والدہ صاحبہ فرماتی ہیں مجھ پر نہ دینے کا کوئی اثر نہ ہوا۔اِس پر حضرت صاحب نے فرمایا۔خدا نے چھڑا دی ہے تو اب نہ دو۔تو مَیں ہر چیز جو استعمال کرتاہوں اگر چھوڑ دوں تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے چائے جس کا استعمال ہمارے گھروں پر ناشتہ کے طور پر ہوتا ہے کبھی کبھی پینا چھوڑ دیتا ہوں کہ عادت نہ ہو جائے مومن کو کسی چیز کے نشہ کی عادت نہ ڈالنی چاہئے۔یہ بھی ایک بُرائی ہے۔(۲۶) دوسروں کو حقیر سمجھنا۔(۲۷) دلی عداوت- عداوت کا خواہ اظہار نہ کیا جائے اور دل میں رکھی جائے۔تو یہ بھی بُرائی ہے۔(۲۸) دوسروں پر بے اعتباری کرنا۔انسان دوسرے کے سُپرد کوئی کام کرتا ہوا ڈرتا ہے۔(۲۹) طمع- یہ بھی قلبی بدی ہے۔