انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 212

۲۱۲ مَیں پچھلے سال جب شام گیا تو دمشق کے ایک بڑے ادیب نے جو ادب کے مجدد مانے جاتے ہیں مجھے تمسخر سے کہا۔آپ مرزا صاحب کی کتابوں کی یہاں اشاعت نہ کریں۔کیونکہ ان میں غلطیاں ہیں اور لوگ ان غلطیوں کو دیکھ کر اُن سے بد ظن ہو جائیں گے۔مَیں نے کہا لو مَیں یہاں بیٹھا ہوں اور اسوقت تک یہاں سے نہیں جائونگاجبتک تمہارے اس دعویٰ کو باطل نہ کر لوں۔تم حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں پر جو اعتراض کرنا چاہتے ہو کر لو۔یہ سُنکر وہ کہنے لگا میں تو آپ کا خیر خواہ ہوں مَیں آپ کا مقابلہ کرنا نہیں چاہتا۔مَیں نے کہا ضرور کرو اگر کر سکتے ہو۔کہنے لگا۔اس میں آپ کا نقصان ہوگا۔مَیں نے کہا اگر ہم جھوٹے ہیں تو تمہارا فرض ہے کہ مقابلہ کرو اور اگر ہم سچے ہیں تو تمہارے مقابلہ سے ہمیں نقصان نہیں پہنچے گا۔بلکہ فائدہ ہوگا۔مگر اُس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔پھر کہنے لگا۔عرب ایک ہندوستانی کو مسیح موعودؑ نہیں مان سکتے۔مَیں نے کہا مَیں یہاں مشن قائم کرنے والا ہوں۔ہم یہاں جماعت قائم کریں گے تم زور لگا لو۔خدا کی قدرت ہم وہاں پانچ دن کے لئے ہی گئے تھے۔جب چلنے لگے تو ایک عالم کا جو عربی، فارسی، ٹرکی کا ماہر تھا رات کے دس بچے کے قریب رقعہ آیا کہ مَیں ملاقات کی خاطر صبح سے بیٹھا ہوں۔ممکن ہے اب بھی مجھے ملاقات کے لئے وقت نہ ملے۔اس لئے مَیں اس رقعہ کے ذریعہ اطلاع دیتا ہوں کہ مَیں مرزا صاحب پر ایمان لے آیا۔اب آپ جہاں چاہیں مجھے تبلیغ کے لئے بھیج دیں۔اور اب تو وہاں ہمارا وفد پہنچ گیا ہے اور اس کے ذریعہ جماعت قائم ہو گئی ہے اور اُسی شخص نے جس نے کہا تھا کہ یہاں کوئی شخص نہیں مان سکتا کہلا بھیجا ہے کہ مجھ پر بد ظنی نہ کی جائے مَیں کبھی آپ کی مخالفت نہیں کرونگا۔پس آپ لوگ اپنی غربت اور کمزوری کا خیال نہ کریں۔وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ ہم اپنی غُربت اور کمزوری کی وجہ سے کامیاب نہ ہونگے وہ مشرک ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ سلسلہ کا کام اُس نے کرنا ہے پھر جو شخص اپنے آپ کو ناکارہ سمجھتا ہے وہ خدا تعالیٰ پر الزام لگاتا ہے کہ اس علیم ہستی نے دنیا کو فتح کرنے کے لئے یہ ناکارہ ہتھیار چُنا۔اسے کون اچھا سپاہی کہیگا جو ٹوٹی ہوئی بندوق یا تلوار اُٹھا کر دشمن کے مقابلہ میں نکلتا ہے۔پھر جس کو خدا تعالیٰ نے سلسلہ کی خدمت کے لئے چُنا وہ ناکارہ کس طرح ہو سکتا ہے۔وہ کام کا انسان ہے۔اور جسے خدا تعالیٰ چُنتا ہے وہ ذلیل نہیں ہوتا بلکہ وہی معزز ہے۔مدینہ کے ایک رئیس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے کہا تھا کہ مدینہ کا سب سے معزز وہاں کے سب سے ذلیل شخص (رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نعوذ باللہ من ذالک) کو مدینہ سے نکال دے