انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 175

۱۷۵ منہاج الطالبین نہیں تو خدا سے بھی نہیں۔بیشک خدا کا حق بڑا ہے مگر اس بات کو پہچاننے کا آئینہ کہ خدا تعالیٰ کا حق ادا کیا جارہا ہے یہ ہے کہ مخلوق کا حق ادا کر رہا ہے۔یا نہیں۔جو شخص اپنے بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں رکھتا وہ خدا سے بھی صاف نہیں رکھتا۔یہ بات سہل نہیں یہ مشکل بات ہے۔سچی محبت اور چیز ہے اور منافقانہ اَور۔دیکھو مؤمن کے مؤمن پر بڑے حقوق ہیں۔جب وہ بیمار پڑے تو عیادت کو جائے اور جب مَرے تو اس کے جنازہ پر جائے۔ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر جھگڑا نہ کرے بلکہ درگذر سے کام لے۔خدا کا یہ منشاء نہیں کہ تم ایسے رہو۔اگر سچی اخوت نہیں تو جماعت تباہ ہو جائیگی۔‘‘ بدر ۱۹۰۸ء نمبر ۱ صفحہ ۱۲، استغفر اللہ ربی من کل ذنبٍ واتوب الیک۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نصائح ہیں تقویٰ کے متعلق۔پس اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اب مَیں یہ تعریف بیان کرتا ہوں کہ انسان کامل کون ہوتا ہے۔جیسے طبّ کے لحاظ سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ تندرست آدمی کون ہے۔اسی طرح رُوحانیت کے لحاظ سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ انسان کامل کون ہوتا ہے۔انسان کامل بننے کے لئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ انسان کا تعلق مخلوق سے بھی درست ہو اور خدا تعالیٰ سے بھی درست ہو۔یہ دونوں باتیں ضروری ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انسان کامل کے لئے قرار دی ہیں۔انسانوں سے تعلق کا درست رکھنا بھی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔(۱) یہ کہ انسان کا اپنے نفس سے تعلق درست ہو چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں: ولنفسک علیک حقّ۔تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔(۲) یہ کہ دوسری مخلوق سے اس کا تعلق درست ہو۔اپنے نفس کے متعلق جو تعلیم ہے وہ پھر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔(۱) انسان ان امور سے مجتنب رہے کہ جو اسکے دل کو خراب کرنے والے ہیں (۲) ان امور پر عمل کرے جن سے دل پاک ہوتا ہے۔دوسرے حصہ کی بھی تین شاخیں ہیں یعنی (۱) بنی نوع انسان سے بحیثیت افراد انسان کا تعلق درست ہو (۲) اسکے تعلقات بنی نوع انسان سے بحیثیت جماعت درست ہوں یعنی قانونِ ملکی کے لحاظ سے دوسروں