انوارالعلوم (جلد 9) — Page 158
۱۵۸ میری مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد کا زمانہ ہے۔میری صحت اِس عادت کی وجہ سے اس قدر کمزور ہو گئی تھی کہ ایک دن حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سے اس کے متعلق مشورہ کیا اور مجھ سے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ کم سے کم سات گھنٹے ان کو متواتر سونا چاہئے۔ورنہ صحت خراب ہو جائے گی۔اور پھر سخت تاکید کی کہ سات گھنٹے متواتر سویا کرو۔ورنہ صحت زیادہ بِگڑ جائے گی اور فرمایا یاد رکھو جو طبیب کا حکم نہ مانے وہ نقصان اُٹھاتا ہے تم اِس حکم کی پابندی کرو۔مگر باوجود اسکے سوائے سخت بیماری کے ایام کے میری نیند ساڑھے چار گھنٹہ سے چھ گھنٹہ تک ہوتی ہے۔اِسی وجہ سے اب اعصابی کمزوری اِس قدر بڑھ گئی ہے کہ جو لوگ میرے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ سورتیں جو مَیں روزانہ پڑھتا ہوں بعض اوقات وہ بھی بھول جاتا ہوں۔اور نظر اس قدر کمزور ہو گئی ہے کہ بعض اوقات آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے۔لیکن باوجود صحت کی یہ حالت ہونے کے مَیں دن رات اس طرح کام کرتا ہوں جو مَیں نے بتایا ہے۔اور چونکہ اِس قِسم کے خیالات دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔اس لئے مَیں نے ان کا ازالہ ضروری سمجھا ہے۔یہی دیکھ لو جو دوست جلسہ پر آتے ہیں وہ تو سمجھتے ہوں گے کہ مَیں نے دو دن لیکچر دیا تو یہ کونسا بڑا کام ہے مگر وہ یہی نہیں جانتے کہ اس لیکچر کے لئے مجھے کس قدر مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔جو مسئلہ مَیں بیان کرتا ہوں اس کے متعلق مذاہب کے لوگوں کے خیالات معلوم کرنے کے لئے مجھے بہت کچھ ورق گردانی کرنی پڑتی ہے۔یہی لیکچر جو مَیں آج دینا چاہتا ہوں اس کی تیاری کے لئے میں نے کم از کم بارہ سو صفحے پڑھے ہوں گے۔ان میں سے مَیں نے بہت ہی کم کوئی بات بطور سند کے لی ہے۔اور یہ صفحات مَیں نے محض خیالات کا موازنہ کرنے کے لئے پڑھے ہیں۔یہ درست ہے کہ میرے دماغ میں جو باتیں آتی ہیں محض خدا کے فضل سے آتی ہیں۔مگر خدا کے فضل کے جاذب بھی ہونے چاہئیں۔اور اس کے لئے فِکر کی ضرورت ہوتی ہے۔مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے۔مراقبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔پس یہ لیکچر ایک دن کی تقریر نہیں ہوتی بلکہ لمبے غور، لمبے فکر اور لمبے مطالعہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔پھر جلسہ کی تقریریں یونہی چھپ نہیں جاتیں۔تقریریں لکھنے والا ساری تقریریں مکمل طور پر نہیں لکھ سکتا۔اسے صاف کرکے لکھنے میں مہینہ کے قریب عرصہ لگ جاتا ہے اور پھر مجھے اس کی لکھی ہوئی تقریروں کی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔تاکہ جس ترتیب سے مضمون بیان کیا جاتا ہے وہی قائم رہے۔اِس کے بعد مَیں ایک اَور بات کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں، اور وہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ