انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 129

۱۲۹ گے۔کیونکہ یہ ضروری ہے کہ جنہوں نے کوئی کام کرنا ہو ان سے بذریعہ ان کے قائم مقاموں کے مشورو لے لیا جائے۔اس وقت تک دونوں طریقوں کے علیحدہ علیحدہ ہونے کی وجہ سے بعض نقصانات ہو رہے تھے جن کے دور کرنے کے لئے ضروری سمجھا گیا کہ دونوں کو ملا دیا جائے۔سب سے پہلا نقصان تو یہ تھا کہ کہ خرچ میں زیادتی تھی۔دو صیغے جو علیحدہ علیحدہ کام کریں ان میں لازماً اخراجات کی زیادتی ہوتی ہے۔کیونکہ کئی کام جو ایک ہی کلرک یا ایک ہی آفیسر کر سکتا ہے ان کے لئے علیحدہ آدمی مقرر ہوتے ہیں۔اس وجہ سے مرکزی اخراجات میں زیادتی تھی۔اب دونوں صیغوں کو ملا دینے سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اگر اللہ تعالی چاہے اور کام کرنے والوں کو صحیح طور پر کام کرنے کی توفیق دے تو اخراجات پہلے کی نسبت کم ہوں گے۔دوسرا نقص یہ تھا کہ دو محکموں کے علیحدہ علیحدہ ہونے کی وجہ سے آمدنی کم ہوتی تھی۔بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دو صیغوں کی وجہ سے آمد بڑھنی چاہئے کیونکہ ایک دوسرے کا مقابلہ ہوتا ہے مگر یہاں ایسا نہیں تھا۔وجہ یہ کہ آمد اسی وقت بڑھتی ہے جب صیغہ آزاد ہو اور دوسرے کا حصہ چھین کر لے جائے۔لیکن اگر دوصیغے کسی اور کے ماتحت ہوں اور ان میں ایسی روایت نہ ہو کہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچا سکیں تو ان کی کوششیں ڈھیلی پڑ جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دو صیغوں سے آمد بڑھنے کی بجائے کم ہوتی تھی۔اور اس کے متعلق یہ مثال موجود ہے کہ مجھے تعجب سے معلوم ہوا کہ مجلس معتمدین کے جو کار کن تھے وہ اس شرح سے چندہ نہ دیتے تھے جو مجلس نے مقرر کی ہوئی تھی۔حالانکہ دوسرے کارکن زیادہ شرح سے چندہ دیتے تھے۔اس طرح کم از کم ایک ہزار روپے ماہوار کا فرق پڑ جاتا ہو گا۔اس کے علاوه جس صیغہ کے متعلق کوئی کام ہوتا تھا وہ اس کا زیادہ لحاظ رکھتا تھا۔مثلاً تحصیل کا صیغہ اگر نظارت کے ماتحت ہوا تو وہ یہ مد نظر رکھے گا کہ نظارت کی آمد پوری ہو جائے۔اور اگر مجلس معتمدین کے ماتحت ہواتو اسے یہ مد نظر ہو گا کہ صدر انجمن کی آمدنی پوری ہو۔اس طرح بھی آمد کم ہوتی تھی۔پچھلے دنوں مجلس معتمدین پر ہزاروں روپیہ قرض ہو گیا تھا۔اور سولہ ہزار کے بل پڑے تھے۔اگر تحصیل کا کام اکٹھا ہوتا تو اس قرضہ کی ذمہ داری صیغہ تحصیل کو معلوم ہو جاتی۔مگر صیغہ تحصیل کا چونکہ زیادہ تعلق صیغہ نظارت سے ہے اس لئے اس کی طرف سے غفلت ہوئی۔گو قدرتاً ہوئی مگر ہونی نہیں چاہئے تھی۔اسی طرح ایک زمانہ میں میں نے دیکھا۔صیغہ تحصیل مجلس معتقدین کے ماتحت تھااس وقت نظارت کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی۔کیونکہ اس وقت تحصیل والوں کی یہ غرض ہوتی تھی کہ