انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 116

۱۱۶ سے محفوظ ہو جائے کیونکہ جب تک اطمینان نہ ہو جائے اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا۔پہلے امرکی حقیقت کو نہ سمجھنے کے سبب سے گائے کی قربانی مساجد اور منادر کے احترام کا سوال پیدا ہوتا رہتا ہے۔ہندو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ان کے عقائد کے مطابق عمل کریں اور مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ ہندو ان کے معتقدات کا لحاظ رکھیں۔حالانکہ اگر دونوں فریق ایک دوسرے کے معتقدات سے متفق ہوتے تو یہ اختلاف ہو تاہی کیوں۔ایک ہندو گائے کا جس قدر بھی ادب کرے اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ ایک مسلمان سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ گائے کو ذبح نہ کرے۔جس طرح ایک مسلمان کا یہ حق نہیں کہ وہ ایک ہندو کو سود لینے سے باز رکھنے کی کو شش کرے۔اسی طرح ایک مسلمان کا کوئی حق نہیں کہ وہ ایک ہندو سے یہ درخواست کرے کہ وہ مسجد کے پاس سے گزرتے ہوئے باجہ نہ بجائے۔نہ ایک ہندو کا حق ہے کہ وہ مسلمانوں کی کمی نہیں رسم کو مندر کے قرب میں بجالانے میں روک ڈالے۔اختلاف وسعت حوصلہ سے مٹتا ہے اور وسعت حوصلہ اس کا نام ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے مخالف عقیدہ رکھتا ہے تو ہم اس کو اس کے عقیدہ کے مطابق کام کرنے دیں۔خود اپنے عقیدہ کے مطابق کریں۔ل يقوم اعملوا على مكانتكم انى عامل اور لکم دينكم ولي دین ۳؎ کے ہم سمجھانے کا حق رکھتے ہیں لیکن لڑنے جھگڑنے کا نہیں۔مذہبی عقائد میں دخل نہ دیا جائے پس چاہئے کہ ہندو مسلمان اس امر کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ ایک دوسرے کے عقیدے میں اور مذہبی امور میں دخل نہ دیں۔ہندؤ گائے کے مسئلہ میں مسلمانوں کو آزاد چھوڑ دیں۔مسلمان ہندوں کو شرک کے مسئلہ میں اور سکھوں کو جھٹکہ اور مسیحیوں کو سؤر کے مسئلہ میں کچھ نہ کہیں۔مسلمان مساجد میں نماز پڑھیں اور اس کے باہر جو کچھ چاہے کوئی کرے اس میں دخل نہ دیں اور ہندو مندر میں جو چاہے کریں مگر گلیوں میں مسلمانوں سے نہ اُلجھیں - پبلک سڑکوں اور پبلک جگہوں کو خواہ مخواہ کی مذہبی نمائشوں سے بچایا جائے۔ہندو مسلم تعلقات اس سوال کا دوسرا حصہ ہندو مسلم تعلقات کے متعلق ہے۔اور یہ تعلقات اس دوسرے نقص کے سبب سے جسے میں اوپر بیان کر آیا ہوں خراب ہو رہے ہیں۔یعنی یہ کہ اس امر کو محسوس نہیں کیا جاتا کہ ایک لمبے عرصہ کے بغض و عناد کے سبب سے ہندو مسلم تعلقات خراب ہو رہے ہیں اور یہ کہ تعلقات کی خرابی کا باعث وہ