انوارالعلوم (جلد 9) — Page 108
۱۰۸ جائے کہ فوج در فوج لوگ جو کسی مذہب کو قبول کرتے ہیں وہ اس کی روحانی خوبیوں کی وجہ سے نہیں کیا کرتے بلکہ اس کی تمدنی اور سیاسی خوبیوں کی وجہ سے کرتے ہیں اور اس قسم کی قو میں ہمیشہ وہی ہوتی ہیں جو تمدناً ادنی ٰ ہوں یا ان کو ادنی ٰسمجھاجاتا ہو۔پس تبلیغ کا بہترین میدان ہندوستان کی وہ قو میں ہوں گی جو تمدناًادنی ٰ ہیں یا ادنی ٰ سمجھی جاتی ہیں۔تبلیغ اسلام میں مشکلات لیکن ان قوموں کے متعلق بیا در کناچاہتے کہ ان پر مسیحی ایک لمبے عرصہ سے اور ہندو کچھ سالوں سے حملہ آور ہو رہے ہیں۔مسیحیوں کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ اس وقت تک تیس لاکھ سے زیادہ ایسے آدمیوں میں سے وہ اپنے ساتھ شامل کر چکے ہیں اور اس وجہ سے نئے داخل ہونے والوں کو ان میں ملنا بہ نسبت دوسرے مذاہب کے زیادہ آسان ہے۔پنجاب میں چار لاکھ کے قریب چوڑھے ہیں جن میں سے نصف کے قریب عیسائی ہو چکے ہیں اور اب عیسائی ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے کیونکہ اب غیر عیسائیوں کو رشتہ کی سخت دقّت ہورہی ہے پس وہ رشتے ناطے کی غرض سے عیسائی ہو جاتے ہیں۔دوسری فوقیت ان کو یہ ہے کہ ان کے پاس روپیہ ہے۔وہ ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اور ان کی تمدنی حالت کی درستی کے لئے ان کے واسطے زمیندار کا انتظام کرتے ہیں۔تیسرے پادریوں کے بارسوخ ہونے کی وجہ سے کئی جگہ مجرم پیشہ لوگ مسیحی ہو جاتے ہیں کہ اس طرح جرائم کر کے بھی نسبتاً محفوظ رہتے ہیں اور کئی جگہ نمبردس کے رجسٹر سے نام کٹوانے کا باعث عیسائی ہو جانا ہوا ہے اور ہوتا ہے۔چوتھے حکومت کا مذہب بھی مسیحیت کی کشش کو ضرور بڑھاتا ہے۔ٍ دوسرے نمبر پر سکھ ہیں اور ان کو یہ فوقیت ہے کہ وہ پنجاب میں بڑے زمیندار ہیں اور چونکہ ادنی ٰ اقوام کا بیشتر حصہ زراعت پر گزارہ کرتا ہے وہ مالک زمیندار کے اثر کو قبول کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔پھر سکھ ہندووں کی نسبت جلد ان لوگوں کو اپنے اندر شامل کر لیتے ہیں اور چونکہ ان میں بھی ایک لاکھ کے قریب یہ لوگ داخل ہو گئے ہیں رشتہ ناطہ کا سوال روک نہیں ڈالتا۔مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ ان قوموں کی طرف توجہ نہیں بلکہ وہ ان کے مسلمان ہونے میں اس لئے روک ڈالتے ہیں کہ پھر ہمارے گھروں کی صفائی کون کرے گا۔چنانچہ ایک علاقے میں چھ ہزار کے قریب ادنی ٰ اقوام کے آدمی اسلام کی طرف مائل ہو رہے تھے کہ ایک مسلمان مولوی کو ایک گاؤں والوں نے مقرر کیا کہ وہ ہمارے واعظ کے پیچھے پیچھے جائے اور ان لوگوں کو مسلمان ہونے پر