انوارالعلوم (جلد 9) — Page 93
۹۳ شک ہو سکتا ہے۔ایک بوڑھا چوہا خاموش بیٹھا ان کی باتیں سنتا رہا۔جب وہ سب اپنی اپنی باتیں کہہ چکے تب اس نے کہاکہ اور تو سب کچھ تم نے بانٹ لیا لیکن بے بتاؤ بلی کی میاؤں کون پکڑے گا۔اتنے میں بلی نے میاؤں کی اور سب بھاگ کر بلوں میں گھس گئے۔اسی طرح ان مولویوں نے بھی مرزائیت کا خاتمہ سمجھ لیا اور اس کا جنازہ نکال بیٹھے ہیں۔احمدیت کو کوئی مٹانہیں سکتا ان کو یہ خبر ہیں کہ یہ جنازہ ان کو بہت مہنگاپڑے گا۔مرزائیت کے خاتمہ کے تو یہ معنے ہیں کہ کوئی ایک احمدی بھی نہ رہے اور تمام مرزائی جماعتیں دنیا سے مٹ جائیں۔مگر کیا ان کے خیال کر لینے اور اشتہار دے دینے سے ایسا ہو سکتا ہے۔اہمیت کو مردہ نہ خیال کریں بلکہ زندہ سمجھیں۔اور اگر وہ مردہ بھی خیال کریں تو مثل مشہور ہے ہاتھی زنده لاکھ کا مردہ سوالاکھ کا۔یہ اچھا مرزائیت کا جنازہ ہے کہ روز بروز اس جماعت کی ترقی ہو رہی ہے۔اور جو زندہ کہلاتے ہیں وہ مٹ رہے ہیں۔میرے خیال میں دل میں تو وہ بھی دعائیں کرتے ہوں گے کہ ایسا جنازہ ان کا بھی نکلے۔کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عجیب مردے ہیں جو ہم زندوں کو کھینچ کھینچ کر اپنے اندر شامل کرتے جاتے ہیں۔تعجب ہے اس قوم پر کیسی بچوں کی سی ان کی حرکتیں ہیں۔بھلا وہ قوم جس کا ایک ایک فرد ان کے سَوسَو مولویوں پر بھاری ہے۔اور وہ اس کے مقابلہ میں کچھ ہستی نہیں رکھتے اس کو بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ مرد ہے اور اس کا جنازہ نکل گیا ہے۔رسول کریم ؐکے صاجزاده ابراہیم کی وفات مسئلہ نبوت کے متعلق میں نے سنا ہے۔ان میں سے ایک نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کے صاحبزاده ابراہیم کو خدا نے وفات ہی اسی لئے دی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا تھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ خود بخود پیدا ہو گیا تھا کہ خدا نے اسے اس لئے وفات دے دی کہ وہ نبی نہ بن جائے۔جب وہ خود بخود پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ خدا نے پیدا کیا تھا تو اسے پیداہی کیوں کیا کہ پھر نبی بن جانے کے ڈر سے وفات دے دی۔ہاں اگر نعوذ با لله یہ ثابت ہو جائے کہ خدا تعالی پر بھی غفلت کا کوئی وقت آسکتا ہے تو یہ بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ اسی غفلت میں اس نے ابراہیم کو پیدا کیا ہو گا اور بعد میں جب معلوم ہوا کہ وہ زندہ رہاتو نبی بن جائے گا اور ختم نبوت ٹوٹ جائے گی تو پھر اس کو وفات دے دی لیکن اگر خدا تعالی پر غفلت کا وقت نہیں آتا تو پھر کون بے وقوف ہے جو یہ کہے کہ خدا نے پہلے اس کو پیدا کیا اور پھر اس لئے مار دیا کہ میں وہ تماشہ بن جائے۔