انوارالعلوم (جلد 9) — Page 63
۶۳ مگر خطرہ کا حصہ ایسے موقعوں پر بہت زیادہ ہو تا ہے اور ایسے خطرہ میں اپنی جان کو ڈال کرحج کر لئے جانا شریعت کے حکم کے خلاف ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس دفعہ کاحج سیاسی حج ہے۔امیرابن سعود کی تمام کوششیں جس کی تائید میں صرف اس لئے ہیں کہ اگر اس سال حج نہ ہو توڈیڑھ دو لاکھ من غلہ جو ان دنوں عرب میں پہنچ جاتا ہے وہ نہیں پہنچے گا۔اور اس سے ان کو بہت نقصان پہنچے گا۔دوسرے وہ جو کہ بیرونی اسلامی دنیا سے بالکل بے تعلق ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اس موقع پر تمام دنیا کے مسلمانوں سے ان کے تعلقات قائم ہو جائیں۔تیسرے حج کی آمد پر اہل مکہ اور اردگرد کے قبائل کا سال بھر گزرتا ہے۔اگر نہ ہو تو ان لوگوں کی حالت پریشان ہو جائے گی۔اور حکومت نجد پر ان کا بوجھ پڑے گا۔اور اگر حکومت ان کا انتظام نہیں کرے گی تو ملک میں ایسی بے چینی پیدا ہوگی جس کا سنبھالنا حکومت کے لئے مشکل ہو گا۔پس امیرابن سعود اپنا سارا زور اس امر کے لئے خرچ کر رہے ہیں کہ کسی طرح لوگ حج کے لئے آویں تاکہ غلہ بھی مکہ میں پہنچ جائے ، لوگوں کے گذارہ کا بھی سامان ہو جائے اور عالم اسلام کی رائے کو بھی وہ اپنے حق میں کرلیں۔ہندوستان کے مسلم لیڈر بھی حج کی تائید محض سیاست کی وجہ سے کر رہے ہیں۔وہ شریف علی کے دشمن ہیں کیونکہ انہوں نے ترکوں کے خلاف جنگ کرنے میں سب سے زیادہ حصہ لیا تھا۔اور وہ جانتے ہیں کہ اگر اس سال حج نہ ہو اور شریف علی کی طاقت بہت بڑھ جائے گی۔امیر ابن سعود کی نسبت یہ مشہور کیا جا رہا ہے کہ وہ ترکوں کے ساتھ ہیں۔اور ایک زمانہ میں ترکوں کے سخت دشمن تھے۔موجودہ زمانہ میں ان کا میلان ترکوں کی طرف اگر ہے تو اس کی وجوہ محض سیاسی ہیں دلی محبت اس کا باعث نہیں۔مگر بہرحال چونکہ شریف کی طاقت کو تو ڑ رہے ہیں اس لئے ہندوستان کے مسلمان ان کی تائید میں ہیں۔گو وہ مذہباً ہندوستان کے رائج الوقت مذہب کے خلاف ہیں یعنی حنفی مذہب کے سخت مخالف ہیں۔اور اس خاندان کے درخشندہ گو ہرہیں جن سے وہابیت کی ہے۔پس ہندوستان کے لیڈروں کی تائید امیر ابن سعود کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ شریف علی کی مخالفت کی وجہ سے ہے۔لايحب علي بل بغض معاوية پھر ایک دفعہ اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔مگر خدا کرے کہ اس ذاتی بُغض و عناد کا شکار وہ غریب حاجی نہ ہوں جو اپنی ساده لوحی سے مؤیّدین امیرابن سعود کے مواعيد ومواثیق پر یقین کر کے حج کے لئے روانہ ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں۔آئندہ واقعات ہی اس امر کو ظاہر کہیں گے جو خدا تعالی کے علم میں ہیں۔مگر موجودہ حالات پر