انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 31

۳۱ اسلام کو قبول کیا اور جس وقت تم اسلام کی مخالفت کر رہے تھے اس نے اسلام کی مدد کی اب تم اس کو کیوں د کھ دیتے ہو تو ان کے پہلے ایمان لانے اور قربانیوں کا اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ تکلیفیں حضرت عمر نے بھی اٹھائیں اور قربانیاں انہوں نے بھی کی تھیں۔پس حضرت ابو بکر کو اس سبقت پر فخر حاصل تھا۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابو بکر یہ چاہتے ہوں گے کہ کاش !فتح مکہ کے وقت ان کو ایمان لانے کا موقع ملتا بلکہ اگر دنیا کی بادشاہت کو بھی ان کے سامنے رکھ دیا جاتا تو حضرت ابو بکر اس کو نہایت حقیر بدلہ قرار دیتے اور منظور نہ کرتے بلکہ وہ اس مرتبہ کے معاوضہ میں دنیا کی بادشاہت کو پاؤں سے ٹھوکر مارنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کرتے۔حالانکہ ان تکلیفوں سے طبعی طور سے مومن کو رنج بھی ہوتا ہے مگر ایمان کی وجہ سے اس تکلیف کو بھی وہ انعام سمجھتا ہے جیسا کہ کسی کا باپ شہید ہو جائے تو کچھ نہیں کہ اس کو طبعی طور پر اس کا رنج بھی ہو گا مگر وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس کے باپ کو شہادت کا مرتبہ کیوں ملا۔اگر بظاہر اس کو رنج پہنچتا ہے تو دل میں فرحت اور اطمینان بھی اس کو ہوتا ہے۔مومن کے اس رنج میں بھی ایک ایسی باریک خوشی ہوتی ہے کہ دنیا کی کسی خوشی کو بھی وہ اس کے برابر قرار نہیں دے سکتا۔پس اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سب سے پہلے قادیان کے احباب کو جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اور تمام رشتہ داریوں کو قطع کر کے قادیان میں ہجرت کر آئے ہیں اور ان کو جو دراصل اس بستی کے رہنے والے ہیں جو کہ خدا کے مسیح کی بستی ہے اس فضیلت کی وجہ سے ان کو اس تحریک میں حصہ لینے کا حق دار سمجھتا ہوں تا کہ آپ دوسروں کے لئے نمونہ بنیں۔اور آپ کے نمونہ سے دوسروں کو اس تحریک میں شامل ہونے کا موقع حاصل ہو اب میں وہ اپیل پڑھ کر سناتا ہوں۔(الفضل ۱۷۔فروری ۱۹۲۵ء)