انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 611

۶۱۱ موقع نکالا ہے، اسے ضائع نہ کیا جائے اور تمام مسلمان کہلانے والوں کی مشترکہ کمیٹیاں بنائی جائیں اور ایک دوسرے کے مذہبی امور میں دخل نہ دیا جائے اور طریق عمل ایسا چُنا جاۓ کہ گورنمنٹ ملازم اور گورنمنٹ میں رسوخ رکھنے والے مسلمان بھی اس میں حصہ لے سکیں یا کم سے کم ان کو اس کام کی مخالفت کرنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر اس طرح کام کیا گیا تو انشاء الله ضرور کامیابی ہوگی اور تھوڑے ہی عرصہ میں اسلام کے دشمنوں کو ہوش آ جائے گا۔پس کیا ہی اچھا ہو کہ آج آپ لوگ اس امر کا بھی عہد کر کے اُٹھیں کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر آپ ایک ایسی کمیٹی تیار کر لیں گے اور اپنے علاقہ میں آج کے پاس شدہ ریزولیوشنوں کے مطابق عملدرآمد شروع کر دیں گے۔میں نے آئندہ کام کے متعلق ایک تفصیلی سکیم سوچی ہے جسے میں اگر ایسی کمیٹیاں بن گئیں تو آہستہ آہستہ ان کے سامنے پیش کروں گا تاکہ جو امور انہیں پسند ہوں وہ ان پر عمل کر کے اسلام کی خدمت کر سکیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ انہیں پسند ہی کریں گے کیونکہ وہ ایسی تدابیر ہیں کہ جو ہر فرقہ اور ہر طبقہ کے لوگوں کے لئے قابل عمل ہیں۔اور ان پر عمل کر کے آئندہ کا پروگرام باحسن وجوه پورا ہو سکتا ہے۔میں آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دستگیری فرمائے اور انہیں ایسی سمجھ دے کہ وہ ان امور میں مشترک ہو کر کام کرنے لگیں جن پر عمل کرنا مسلمانوں کی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔واخردعوانا أن الحمد للہ رب العلمین - والسلام خاکسار مرزا محموداحمد امام جماعت احمدیہ قادیان (الفصل ۲۲ جولائی ۱۹۲۷ء)