انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 517

۵۱۷ متعلق وہم و گمان بھی نہیں آسکتا۔تیسرے الہام پانے والوں کی اخلاقی حالت NORMAL(درست) ہوتی ہے۔ان میں جوش اور ہیجان نہیں ہوتا۔مگروہمی کی حالت ABNORMAL (نادرست) ہوتی ہے۔اس کی طبیعت میں جوش ہوتا ہے۔بات کرتے ہوئے کانپتا ہے۔سُرعت اور عُجلت سے کام لیتا ہے۔ایک ہی بات کی دھن لگی ہوتی ہے۔ایسے لوگ دوسروں سے مل کر کام نہیں کر سکتے۔قوم بنانا، جتھہ بناناء سوسائٹی قائم کرنا ان لوگوں کا کام نہیں ہوتا۔کسی ماہر امراض دماغی (MENTAL SPECIALIST) سے پوچھو گے وہمی لوگ بھی وہ کام کر سکتے ہیں جو الہام کے مدعی دنیا میں آ کر کرتے ہیں۔اس کے مقابل میں الہام پانے والوں کی طبیعت میں صبر ہوتا ہے ، سکون کی حالت ہوتی ہے، گھبراہٹ نہیں ہوتی، ان میں رحم اور حلم ہوتا ہے، ان کی ہر طرف نگاہ ہوتی ہے، ہر شعبہ زندگی پر نظر ہوتی ہے۔ان کی تعلیم میں ہدایات ہوتی ہیں، ان کا کلام پُر حکمت ہوتا ہے، یہ دنیا کی رہنمائی کرتے ہیں، کشت و خون سے دنیا کو نجات دیتے ہیں، وہ امن کے شہزادے ہوتے ہیں اور قوموں کے درمیان صلح اور اتحاد کی بنیاد ان کے ہاتھوں سے رکھی جاتی ہے۔اگر ان صفات والوں کو پاگل کہا جائے تو پرایسے پاگل تو دنیا میں سب ہی ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: ن والقلم وما يسطرون - ما انت بنعمۃ ربک بمجنون ۲۹؎ قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں۔نہیں ہے تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ۔قلم کی قسم ہے یعنی قلم کو اور ان علوم کو جو اس زمانہ میں رائج ہیں اس بات پر گواہ ٹھہرا یا ہے کہ تیری باتیں مجنونہ نہیں۔اس میں ایک ہی پیشگو ئی ہے کہ دنیا خواہ کتنی علمی ترقی کر جائے، دماغی امراض کا کتناہی باریک مطالعہ کیا جائے، تجھ کو ہرگز مجنون ثابت نہ کر سکیں گے۔ساری علمی کتابوں کی تم ہے۔سارے علوم مقابلہ پر لے آئیں، تیرے عمل کو پرکھ لیں، تیری تعلیم پر جرح کرلیں، تجھ کو هرگز دیوانہ ثابت نہیں کرسکتے۔تیرا عمل اس کے برعکس ہو گا۔لیکن اس میں اطمینان ہے، اُمنگ ہے، شوق ہے، وسعی چال ہے، اعلیٰ تربیت ہے، تُو نے دوسروں کی تربیت کی، ہزاروں کاموں کی تجاویز کیں، خداتعالی کے کلام کے حقیقی معانی بیان کئے۔کیا یہ سب باتیں مجانین کیا کرتے ہیں۔چوتھے الہام پانے والوں کی پالیسی ہمیشہ غالب آتی ہے۔اگر ان میں دماغی نقص ہوتا تو وہ غالب