انوارالعلوم (جلد 9) — Page 500
۵۰۰ تصادم کی وجہ اگر مذہب اور سائنس میں تصادم ممکن نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان میں مقابلہ چلا آیا ہے۔اگر ان میں جو جھگڑاہے اس کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔کیا سائنس دانوں پر یونہی ظلم کئے گئے۔ان کو بِلا وجہ قتل کیاگیا اور جلایا گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تصادم حقیقی نہیں۔سے ہرگز سچا مذہب سائنس سے ہرگز نہیں ٹکراتا اور سچی سائنس مذہب کے خلاف نہیں ہو سکتی کیونکہ مذہب خدا کا قول ہے اور سائنس خدا کا فعل۔پس خدا کے قول اور فعل میں حقیقی تصادم نہیں ہو سکتا۔اگر تصادم ہو تو ماننا پڑے گا کہ یا تو مذہب کی ترجمانی غلط ہوئی ہے۔(کیونکہ مذہبی احکام دینے والا تو نہ جھوٹا ہے اور نہ پاگل) یعنی لوگوں نے مذہب کو غلط سمجھا۔یا پھر خدا کے فعل (سائنس) کے سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ورنہ مذہب اور سائنس دونوں متنرہ عن الخطاء ہستی کی طرف سے ہیں۔جس کے قول اور فعل میں تضاد ممکن نہیں۔پس معلوم ہوا کہ ہمارے غلط INTERPRETATION(ترجمانی )کی وجہ سے تصادم ہوا ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ظرف کے ساتھ مل کر چیزنئی شکل اختیار کر لیتی ہے۔مثلا ًپانی ہے۔اسے اگر گول برتن میں ڈالا جائے تو گول شکل اختیار کر لے گا اور اگر چپٹے برتن میں ڈالو تو چپٹا نظر آئے گا۔یہی تقریر جو اس وقت میں کر رہا ہوں۔اسے ہر شخص الگ الگ طرز پر بیان کرے گا۔اور اس طرح میرے بیان میں اختلاف نظر آئے گا۔مگر یہ ہماری اپنی سمجھ کا فرق ہو گا۔گویا INTERPRETATION الگ الگ ہوں گے۔پی مذہب اور سائنس میں تصادم ہو تو ماننا پڑے گا کہ یا تو خدا تعالی کے قول کے سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔یا پھر خدا تعالی کے فعل کے سمجھنے میں ٹھوکر لگی ہے۔مثلا ًپانی کے متعلق پہلے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ یہ مفرد چیز ہے مگراب ثابت ہوا ہے کہ یہ مرکب ہے۔اسی وجہ سے کیا پہلوں کو پاگل کہہ دو گے۔فرض کرو قرآن کہتا کہ پانی مرکب ہے تو کیا سائنس دان اس وقت نہ کہتے کہ سائنس سے ٹکرا رہا ہے۔حالانکہ اس وقت سائنس کی ترجمانی میں وہ خود غلطی کھارہے تھے۔اسی طرح دنیا کی عمر قرآن سے ۷ ہزار سال ثابت نہیں۔محض لوگوں نے ایسا سمجھ رکھا ہے۔اب یہ بات سائنس کے خلاف ہے۔مگر یہاں پر مذہب کے INTERPRETATION میں غلطی کی گئی ہے نہ یہ کہ قرآن حقیقی سائنس کے خلاف کہہ رہا ہے۔حضرت محی الدین صاحب ابن عربی نے کتاب فتوحات مکّیہ میں لکھا ہے کہ مجھے الہام کے ذریعہ بتایا گیا تھا کہ اہرام مصر لاکھ سال کے بنے ہوئے ہیں۔