انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 498

۴۹۸ خوب معلوم ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ مقابلہ کیوں ہے اور یہ تصادم کس وجہ سے ہے؟ آیا کوئی معقول وجہ اس بات کی ہے کہ سائنسی مذہب سے ٹکرائے۔کیا مذہب واقعی سائنس کے خلاف تعلیم دیتا ہے؟ اس بات کے فیصلہ کی آسان صورت کہ آیا ان دونوں میں حقیقی تصادم ہے یا نہیں یہ ہے کہ دونوں کی تعریف بتا دی جائے۔یعنی مذہب کسے کہتے ہیں اور سائنس کس چیز کا نام ہے۔با اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دو شخص جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ان دونوں کانقطہ نگاہ ایک ہی ہوتا ہے۔مگر الفاظ کی غلطی سے ٹھوکر لگ جاتی ہے۔اور محض لفظی نزاع سے لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔مولانا روم اپنی مثنوی میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ چار شخص اکٹھے جارہے تھے۔انہوں نے ملکر مزدوری کی جس کے عوض میں انہیں کچھ پیسے ملے۔اس پر انہوں نے مشورہ کیا کہ ان پیسوں سے کیا چیز خرید کر کھائی جائے۔ایک نے کہا۔ہم تو منقہ خریدیں گے۔دوسرے نے کہا نہیں ہم تو عِنَب لیں گے۔تیسرا بولا ہمیں تو انگور بہت پسند ہیں۔اور چوتھا کہنے لگا۔میں تو داکھ کھاؤں گا۔اس اختلاف پر ان میں جھگڑا ہو گیا۔پاس سے ایک شخص گزرا۔اس نے جھگڑے کا سبب دریافت کیا۔معلوم ہوا کہ چیز ایک ہی ہے۔محض لفظی نزاع ہے۔اور زبانوں کے اختلاف سے مختلف نام لے رہے ہیں۔اس نے بازار جا کر انگور خریدے۔اور ان کے آگے رکھ دیئے۔سب نے مل کر کھائے اور اس راہ گزر کی عقلمندی کی داد دی۔پس معلوم ہوا کہ بعض دفعہ دو چیزوں میں حقیقی تصادم نہیں ہوتا کیونکہ چیز ایک ہی ہوتی ہے اور محض الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے ٹکراؤ معلوم ہو تا ہے۔مذہب کی تعریف مذہب کی تعریف یہ ہے۔خداتعالی سے ملنےکا وہ راستہ جو خود اس نے الہام کے ذریعہ دنیا کو بتایا ہو۔مذہب کے معنی ہی عربی زبان میں راستہ کے ہیں اور دین کے معنی ہیں طریقہ۔سائنس کی تعریف سائنس کی اصولی تعریف یہ ہے۔وہ علوم جو منظم اصول کے ماتحت ظاہر ہوئے ہوں اور ظاہری صداقتوں سے جن پر استدلال کیا گیا ہو یا پھر اس سے مراد وہ مادی حقائق ہیں جن کی بنیاد مشاہدہ اور تجربہ پر ہو۔یعنی استدلال صحیحہ سے بعض حقائق معلوم کئے جائیں۔مذہب اور سائنس کی اس تعریف کے ماتحت کیا تصادم ممکن ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مذہب اور سائنس کی یہی تعریف ہے جو ابھی بتائی گئی ہے تو پھر ان دونوں میں تصادم نہیں اور تصادم نہیں ہو سکتا۔مذہب کی حقیقی تعریف یہی ہے ورنہ مذہب سائنس کے تصادم سے بچ نہ سکے