انوارالعلوم (جلد 9) — Page 472
۴۷۲ میں اس پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔اسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں دلائل کو کھول کر بتا دیا گیا ہے اس لئے جبر کی اسے ضرورت نہیں۔اب اس دعوی ٰکے ہوتے ہوئے اگر کوئی مسلمان جبر کرے تو اسلام کے اس دعویٰ کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔اس لئے کسی عقلمند مسلمان کی نسبت یہ خیال نہیں کیا سکتا کہ وہ جبر کر کے اسلام کے اس عظیم الشان دعویٰ کو جھوٹا کر سکے۔قرآن کورسول کریمؐ کی ڈائری کہنے والی سوچیں ٍ اسی طرح قرآن مجید کی ایک اور آیت سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ قرآن کریم میں مطلقاً جبر کی تعلیم نہیں ہے حضرت شعیبؑ نبی کے پاس اس کی قوم کے سرکردہ لوگوں نے آکر کہا۔اے شعیب! اگر تم اور تمہارے ساتھی اپنے دین کو چھوڑ کر ہمارے دین میں واپس نہ آؤ گے تو ہم تم کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔حضرت شعیب جواب دیتے ہیں اولو کنا کارھین ۶؎ کیا اگر ہم تمہارے دین کو بڑا سمجھیں اور اس سے بیزر ہوں اور اگر ہمارا دل نہ بھی چاہتا ہو تو بھی تم ہمیں اس بات پر مجبور کردے کہ ہم تمہارے مذہب میں لوٹ آئیں اور اگر ہم نے تمہارا دین قبول نہ کیا تو ہمیں اس شہر سے نکال دو گے۔کیا ہی لطیف یہ جواب ہے۔اگر وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں جبر کی تعلیم ہے صرف اسی ایک آیت پر غور کرتے تو انہیں سمجھ آجاتی کہ قرآن جب کہ ایک نبی کی زبان سے یہ کہلوا رہا ہے کہ اگر دل نہ بھی چاہتا ہو تو پھر بھی کیا تم مجبور کرو گے کہ تمہارا دین قبول کیا جائے تو وہ خود کیسے کسی کو یہ تعلیم دے سکتا ہے کہ لوگوں پر جبر کر کے انہیں مسلمان بناؤ۔پھر جیسا کہ بعض اعتراض کرنے والے بالکل غلط کہا کرتے ہیں قرآن تو (نعوذ بالله من ذالیک) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا بنایا ہوا ہے اور ان کی روزانہ ڈائری ہے۔اگر قرآن شریف واقعی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روزانہ ڈائری ہے اور آپ کا بنایا ہوا ہے تو یہ الفاظ بھی آپ ہی کی زبان سے نکلے ہونگے جو شعیب نبی کے متعلق قرآن میں پیش کئے گئے ہیں جو انہوں نے اپنی قوم کے سرداروں کے جواب میں کہے۔اگر یہ الفاظ اسی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلے ہیں جس کے متعلق کماجات ہے کہ قرآن اس نے آپ بنایا تو کیا اس کے متعلق یہ خیال کر لو گے کہ وہ خود جبر کرتے تھے اور اپنے ماننے والوں کو جبرکی تعلیم دیتے تھے۔کیا ایک شخص جو جبر کو عقل اور فطرت کے خلاف سمجھتا ہے وہ خود جبر کر سکتاہے۔