انوارالعلوم (جلد 9) — Page 406
۴۰۶ یہاں بھی اسی طرح ہوا۔گو یہ پیشگوئی کے مطابق ہؤا لیکن یہ صحیح نہیں کہ جو بات پیشگوئی کے مطابق ہو وہ ضرور اچھی ہوتی ہے۔مثلاً یہ پیشگوئی کہ نبی کی مخالفت ہوگی۔اس پر استہزاء کیا جائے گا لیکن باوجود اس کے اس کی مخالفت اور استہزاء اچھی بات نہیں۔پھر یہ بھی پیشگوئی ہوتی ہے کہ فلاں شخص دین کی راہ میں مارا جائے گا۔اور ایک شخص کے ناحق مارے جانے کی خبر دی جاتی ہے۔بہرحال اس فعل کے اندر بعض بھیانک باتیں ہیں جن کے باعث ہم اظہار نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔یہ ایسا ظالمانہ اور ناپاک خیال ہے (کسی کو محض کافر ہونے کی وجہ سے قتل کرنا) کہ اس سے بڑھ کر ناپاک نہیں ہو سکتا۔کیونکہ وہ شخص نہ صرف خود بُرا فعل کرتا ہے بلکہ مذہب کو بھی بدنام کرتا ہے۔جو قوم اس لئے مارتی ہے کہ اُس کے مذہب پر لوگ حملہ کرتے ہیں وہ گویا ثابت کرتی ہے کہ اس کامذہب تلوار کا محتاج ہے اس میں خوبی نہیں۔دو اپنی خوبی کے زور سے نہیں پھیل سکتا بلکہ تلوار کے زور سے پھیلتا ہے۔اور ایسامذہب تو خود اس لائق ہے کہ اسے دنیا سے مٹا دیا جائے۔لیکن اسلام کی اشاعت تلوار سے نہیں ہوئی ہے۔جو شخص اسلام کے لئے تلوار اُٹھاتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے۔اس لئے ہم اس فن کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے نہایت حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس نے قوم اور ملک کے امن کو برباد کر دیا ہے اور دین اسلام کو بدنام کر دیا ہے۔ہماری قوم نے بیڑا اٹھایا ہے کہ محبت کے ذریعہ حق کو پھیلایا جائے گا۔نرمی کے ذریعہ حق کو قائم کیا جائے گا اس لئے ہمیں سب سے زیادہ اس فعل پر اظہار نفرت کرنا چاہئے۔ہماری قوم ہی ہے کہ جس نے پانچ آدمی محض اس لئے دے دیئے ہیں کہ مذہب کے نام پر دنیا کے امن کو برباد نہ کیا جائے۔ہمارے پانچ آدمی ۲؎ صرف اس لئے سنگسار کئے گئے کہ وہ کہتے تھے کہ مذہب کے لئے جہاد جائز نہیں۔آج صرف ہم ہی یہ دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے عزیز دوستوں نے محض اسی غرض سے تکلیف کے ساتھ جان دے دی کہ مذہب کو امن سے پھیلایا جائے۔کال کی سرزمین گواہ ہے۔ہمارے عزیز دوستوں کی لاشیں نہیں کابل کے پتھراور ہزاروں پتھر گواہی دے رہے ہیں کہ ہم ادب کے معاملے میں زبردستی اور ظلم کو جائز نہیں سمجھتے۔اس واقعہ میں بھی ہم کہتے ہیں کہ قاتل اس فعل کا ذمہ دار نہیں۔وہ مجبور ہے، وہ معذور ہے، اسے اس قتل پر مجبور کیا گیا کیونکہ قتل جیسے فعل کو انسانی فطرت قبول نہیں کرتی بلکہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انسان اس قسم کے فعل کا مرتکب نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجبور نہ