انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 372

۳۷۲ حدیث کے الفاظ واضح ہیں اس کا مطلب ظاہر ہے اس میں کسی اندر کے دربار کے ناچ کا ذکر نہیں جنگی مشق کا ذکر ہے جو مسجد کے صحن میں صحابہ رسول کریم ﷺ کر رہے تھے۔پس اس پر یہ ہے اعتراض کرنا کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی بیوی کو ناچ دکھایا پس چاہئے کہ مسلمان تھیٹروں اور ناچ گھروں میں اپنی عورتوں کو لے جایا کریں اول درجہ کی بے حیائی اور شرارت ہے اور ایسا انسان جو جنگ کے فنون کو ناچ گھروں کے اعمال سے تشبیہہ دیتا ہے یا تو خر دماغ ہے جس کی عقل میں ادنی ٰ سے ادنی ٰ بات بھی نہیں آسکتی یا بے شرمی وبے حیائی میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی بے شرمی کا خیال کرنا بھی مشکل ہے۔کیا فنون حرب کا استعال ناچ ہوتا ہے تو کیا جنگ کے موقع پر آگے پیچھے حرکت کرنا ناچ ہے؟ اور حضرت علی ؓجنہوں نے سب عمرجنگ میں گزار دی وہ ہمیشہ ناچ گھروں کو ہی زینت دیتے رہے تھے؟ اگر کہو کہ وہ تو جنگ کے موقع پر اس فن کا استعمال کرتے تھے نہ کہ بے موقع۔تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی فن بِلا سیکھے کے بھی آجاتا ہے؟ آخر پہلے تلوار پکڑنی اور پیترے بدلنے انہوں نے سیکھے ہوں گے۔نیزے کا وار اور ڈھال کا استعمال کرنے کی مشق کی ہوگی تبھی آپ جنگ میں ان چیزوں کو استعمال کر سکتے ہوں گے تو کیا ان مشق کے ایام میں آپ ناچا کرتے تھے؟ وہ فن جو اعلی ٰدرجہ کے شریف فنون میں سے ہے جس کے ساتھ قوموں کی عزت اور ترقی وابستہ ہے اس کو ناچ قرار دینا سوائے بے شرموں اور بُزدلوں کے کسی کا کام نہیں۔اور اس کو ناچ قرار دینا گویا خدا کے انبیاء اور اولیاء کو ایکٹر قرار دینا ہے کیونکہ بہت سے انبیاء اور اولیاء فتون حرب میں ماہر تھے اور ان کو استعمال کرتے تھے۔مصنف ہفوات نے اس امر سے بالکل آنکھیں بند کرلی ہیں کہ جس قدر زندہ قومیں ہیں وہ و قتاً فوقتاًفوجی کرتب دکھاتی رہتی ہیں جس سے ان کی ایک طرف تو یہ غرض ہوتی ہے کہ سپاہیوں کے ہاتھ سست نہ ہو جائیں اور ان کی مشق جاتی نہ رہے۔دوسرے نئی پود کے دل میں جنگی ولولوں کا پیدا کرنا اور ان کے دلوں میں اپنی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے۔تیسرے اس فطرتی تقاضا کا پورا کرنا مطلوب ہوتا ہے جو انسان کی طبیعت میں حصول فرحت و سرور کی خواہش کے رنگ میں ازل سے ودیعت کیا گیا ہے۔جو لوگ نادان اور بے وقوف ہوتے ہیں وہ اس خواہش کو لغو اور بے ہودہ طریق پر پورا کرتے ہیں۔لیکن نیک اور صالح لوگ اس خواہش کو ایسے رنگ میں پورا کرتے ہیں کہ خوشی کا سامان بھی بہم پہنچ جاتا ہے اور نیک نتائج بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔پس بے وقوف ہے وہ شخص جو ان مشقوں اور مظاہروں کو ناچ گھروں والے ناچوں سے تشبیہہ دیتا ہے اور