انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 343

۳۴۳ حق الیقین موجودگی میں۔مصنف ہفوات بجائے اس گندے اعتراض کے جو انہوں نے اپنی جبلی کمزوری کے ماتحت اختیار کیا ہے اگر قرآن کریم پر غور کرتے اور انسانوں کے مختلف طبقات کو دیکھتے تو مصنف فردوس آسیہ کے قول کے وہ معنی بھی کر سکتے تھے جو اوپر بیان ہوئے ہیں اور جن پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔اسی اعتراض کے تحت میں مصنف ہفوات نے ایک اور اعتراض بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مصنف آسیہ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو اپنا جمال عائشہ کی شکل میں دکھلایا اور پھر درمیان سے پردہ اٹھا دیا اس پر مصنف ہفوات کو اعتراض ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ کی عورتوں کو محبت دیکھ کر عائشہ کی شکل میں حلول کیا۔اس اعتراض کی بناء بھی کسی حدیث پر نہیں ہے۔مصنف ہفوات کو چاہئے تھا کہ اول وہ حدیث لکھتے جس میں یہ بات بیان ہے پھر اعتراض کرتے اور اگر ایسی کوئی حدیث ان کو معلوم نہ تھی یا اگر کوئی تھی تو ایسی تھی کہ اس کو پیش کرتے ہوئے ان کو اپنی انصاف پسندی پر سے پردہ اٹھنے کا احتمال تھا تو خاموش رہتے۔اگر ایسی ہی باتوں پر اعتراض کیا جائے تو شیعہ صاحبان میں بھی ایسی روایات مشہور ہیں کہ جن کو سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ایک روایت مشہور ہے کہ معراج کے دن رسول کریم ﷺ نے عرش پر حضرت علی کی ہی تصویر کو دیکھا تھا۔پس اس قسم کی روایات اگر عوام الناس میں پھیل جائیں تو ان کی وجہ سے کسی مذہب یا اس کے ائمہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔یہ جواب تو اس بات کو مدنظر رکھ کر ہے کہ ایسی کوئی حدیث اہل سنت میں نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔لیکن اگر ا س کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ یہ ایک عام نظارہ ہے جس سے تمام روحانیت رکھنے والے مومن آگاہ ہیں اور اس پر اعتراض کر کے مصنف ہفوات نے صرف اس امر کو ظاہر کیا ہے کہ ان کو روحانیت سے ذرہ بھی مسّ نہیں۔یہ امر لاکھوں مومنوں کے تجربہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عام کشف اور رؤیا میں انسانوں کی شکل میں نظر آ جاتا ہے اور اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ محدود ہے یا حلول کرتا ہے بلکہ اس رؤیا سے صرف اس تعلق کا اظہار مراد ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو بندے سے ہے اور تصویری زبان میں