انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 342

۳۴۲ حق الیقین کر دیا تو حضرت ابو بکر پر سے خود ہی اعتراض دور ہو گیا۔قرآن کریم میں بھی اسی قسم کے خیالات کے لوگوں کا ذکر ہے۔چنانچہ حضر ت مریم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ان کے ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو لوگوں نے ان سے مخاطب ہو کر کہا يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا(مريم :28-29) ترجمہ۔اے مریم تُو نے ایک حیرت انگیز کام کیا ہے۔اے ہارون کی بہن تیرا باپ تو برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں فاحشہ تھی۔یعنی یہ کس طرح ہوا کہ ان نیکوں کی اولاد خراب ہو گئی ہو۔خراب او ربدکار تو بدوں کی اولاد ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو بھی وہ جواب سکھایا کہ ان کا منہ بند ہو گیا یعنی انہوں نے اس اعتراض کے جواب میں صرف اتنا کیا کہ فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ (مريم :30) حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف اشارہ کر دیا۔یعنی ان کو انہی کے معیار سے ملزم کیا۔ان کا تو یہ اعتراض تھا کہ بد کی اولاد بد ہوتی ہے اورنیک کی نیک۔حضرت مریم علیہا السلام نے حضرت مسیح کی زندگی کو پیش کر دیا کہ اگر یہ معیار درست ہے تو دیکھو یہ میرا لڑکا کیسا ہے؟ اگر تمہارا خیال درست ہے تو پھر بدکاری کے نتیجہ میں یہ نیک اور نمونہ پکڑنے کے قابل لڑکا کہاں سے پیدا ہوا؟ تمہارے اصل کے مطابق تو خود اس لڑکے کا چال چلن ہی میری بریت کے لئے کافی ہے۔چنانچہ ان کے اس دعویٰ کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کا یہ دعویٰ پیش کرتا ہے۔قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ ‎وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ (مريم:31-35)ترجمہ: مسیح نے اس پر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے اور مجھے مبارک کیا ہے۔جہاں بھی میں رہوں اور مجھے تاکید کی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں عبادت اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر کاربند رہوں۔اور مجھے اس نے اپنی ماں سے بہت ہی نیک سلوک کرنے والا بنایا ہے (یعنی اگر میری ماں بدکار ہوتی تواللہ تعالیٰ اس سے نیک سلوک کرنے کا خاص حکم کیوں دیتا؟ اور اس کی مرضی کا پاس کیوں رکھتا؟) اور مجھے لوگوں کے حقوق چھیننے والا اور نیکی سے محروم رہنے والا نہیں بنایا۔اور اس نے میرے تینوں زمانوں پر سلامتی نازل کی ہے جب میں پیدا ہوا اس وقت بھی اور جب میں مروں گا اور جب دوبارہ اٹھوں گا اس وقت بھی ایسا ہی ہو گا۔مریم کابیٹا عیسیٰ ایسا تھا یعنی ایسے آدمی کی والدہ پر وہ لوگ اعتراض کر سکتے تھے کہ وہ بدکار تھی۔اور پھر مذکورہ بالا حالات کی