انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 308

۳۰۸ وہ ان کی صحبت میں بیٹھے ہوئے خدمت دین کو بھول جاتے ہیں۔کیا اب اہل سنت بھی کہہ دیں کے۔”امام کی شان تویہ ہے کہ وہ معرفت الہٰی اور ہدایت خلق اللہ اور اجرائے احکام خدا میں زیادہ خوش ہو نہ کہ عورتوں اور اس کے لوازم خوشبو سے“ (معاذ الله)۔اور کیا مصنف صاحب ہفوات اپنے اعوان شیعہ صاحبان کی مدد سے ان کتب اہل شیعہ کے احکاک سے فارغ ہو لینا چاہئے پھر دوسری طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ دوسرے کو کہنے کا وہی شخصی مستحق ہوتا ہے جو پہلے اپنے گھرکا انتظام کرے۔یہ جواب تو اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہے جو مصنف ہفوات نے تجویز کیا ہے لیکن ہم جس اصل کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اسکے رو سے امام ابو عبداللہ کی طہارت اور پاکیزگی اور تقوی ٰ اور بزرگی میں کچھ بھی فرق نہیں آتا۔نہ ان کتب اہل شیعہ کی تحقیر ہوتی ہے۔ہم جب تک بددیانتی ثابت نہ ہو ان کی کوشش کی بھی قدر کرتے ہیں اور میرے نزدیک انہوں نے ائمہ اہل بیت کے اقوال نقل کر کے ایک قابل قدر خدمت کی ہے۔اگر اس خدمت میں نادانستہ ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس سے ان کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا۔نہ ان کی کتابوں کی عظمت کو صدمہ پہنچتا ہے اور اگر دانستہ غلطی کی ہے تو اس کے ذمہ دار وہ خدا تعالی کے حضور میں ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا حضرت عائشہ سے عشق دوسرا اعتراض مصنف ہفوات کا یہ ہے کہ احادیث میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے عاشق تھے۔اور یہ بات غلط ہے۔اور اس کی تائید میں انہوں نے کئی احادیث نقل کی ہیں جن کے متعلق میں الگ الگ لکھتا ہوں اول تو انہوں نے جواب الکافی سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ امّ سلمہؓ سے کہا کان اذارأي عائشة لا یتمالک نفسہ ۳۹؎ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کو دیکھتے تھے تو ان کا اپنے نفس پر قابو نہیں رہتا تھا۔یہ روایت جو اب الکافی میں بِلاحوالہ کتاب اور بِّلا سند درج ہے اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی کتاب میں سے مصنّف کتاب نے درج کی ہے یا یہ کہ ان بے شمار نا قابل اعتبار روایات میں سے ایک ہے جو عام طور پر مجالس وعظ کی زینت کے لئے لوگوں میں مشہور تھیں۔مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث کا مضمون قابل اعتراض ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف اور قرآن کریم کے بتاۓ ہوئے اخلاقِ محمدی کے بر عکس ہے۔پس یہ روایت یہ سبب مضمون قرآن اور صحیح روایات اور عقل