انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 306

۳۰۶ میں ہرگز خیال نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص ایمان میں ترقی کرتا ہو بِلا اس کے کہ ساتھ ساتھ عورتوں کی محبت میں بھی بڑھتا ہو۔دوسری روایت حفص بن البحّری کی امام ابو عبداللہ سے اسی کتاب اور اسی باب میں درج ہے اور وہ یہ ہے قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحببت من دنياكم إلا النسا، واللطيب ۳۵؎ ترجمہ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہاری دنیا میں سے محبت نہیں کرتا مگر عورتوں اور خوشبو سے۔یہ الفاظ ابو داؤد کی روایت سے بہت زیادہ سخت ہیں کیونکہ اس میں تو حُبِّبَ کے لفظ تھے جن کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ میں خود تو محبت نہیں کرتا مجھ سے محبت کرائی جاتی ہے لیکن امام ابو عبد اللہ ایک طرف تو یہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص ایمان میں ترقی نہیں کر سکتا جب تک اسے عورتوں سے محبت نہ ہو۔دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں میں تمہاری دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو سے محبت کرتا ہوں اب مصنف ہفوات صاحب فرمائیں کہ کیا وہ کُنہیا پرست اور واضح حدیث کے الفاظ اس امام اہل بیت کی نسبت بھی استعمال کریں گے یا صرف یہ الفاظ ابو داؤدہی کی نسبت استعمال کئے جا سکتے ہیں؟ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی شخص کسی راستباز انسان پر اعتراض کرنا ہے تو اس کا قدم ٹھہرہی نہیں سکتا جب تک سب راستبازوں پر حملہ نہ کرے کیونکہ راستباز سب ایک زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں اور سب کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے جو ان میں سے کسی ایک کے راستہ میں پتھر رکھتا ہے وہ سب کو گرانے کی کوشش کرتا ہے جو ایک کو دھوکا دیتا ہے ہم سب کو دھوکا دیا ہے تو انسان سب راستبازوں کو قبول کرلے یا اسے سب کو ردّ کرنا پڑے گا۔اور اس کا دعوائے ایمان اس کے کسی کام نہ آئے گا۔کیونکہ اس کے اقوال اس کے ایمان کو رد کر رہے ہیں۔اس سے بھی بڑھ کر یہ روایت ہے جو علی بن موسی ٰرضا ؒسے معمر بن خلاد نے بیان کی ہے اور وہ یہ ہے يقول ثلاث من سنن المرسلين العطر و اخذالشعر و الطروقة\" ۳۶؎ یعنی *مصنف صاحب ہفوات نے دوسرے ایڈیشن میں کچھ تبدیلیاں کر دی ہیں چنانچہ عورتوں اور خوشبو کی محبت کے متعلق چونکہ ان کو اپنے بزرگوں سے معلوم ہوا ہے کہ ان کا ذکر توسنّیوں سے بڑھ کر ہماری کتب میں موجود ہے اس لئے انہوں نے دوسرے ایڈیشن میں اعتراض کا پہلو یوں بدل دیا ہے کہ ان چیزوں سے محبت تو ہر صحیح القویٰ کو ہوتی ہے رسول کی کیا خصوصیت ہے؟ لیکن یہ اعتراض بھی ویساہی بودہ ہے کیونکہ حدیث میں خصوصیت کا ذکرہی