انوارالعلوم (جلد 9) — Page 284
۲۸۲ حق الیقین خود بڑے بڑے ائمہ اس رسم کرنا پسند کرتے ہیں ان کی ہدایت کا موجب وه روایات ہی ہوتی ہیں جو احادیث کے نام سے مشہور ہیں اور انہیں سے معلوم کرتے ہیں کہ اس کا کام کا ثبوت ائمہ اہل بیت کے عمل سے نہیں ملتا اگر وہ روایات نہ ہوتی تو وہ کیو نکر سمجھتے کہ یہ کام حضرت امام زین العابدین کے زمانہ سے چلا آتا ہے یا بعد میں کسی تماش بین طبیعت نے ایجاد کر کے اپنے ہم مذاق لوگوں کی ہمدردی کو حاصل کرکے اس کا رواج عام کر دیا ہے۔علم حدیث کا ایک اور فائدہ بھی ہے کہ یہ سنت کے متعلق ہمیں یہ علم بھی دیتا ہے کہ کونسی سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ مرغوب تھی۔بے شک نسلاً بعد نسلِ مسلمانوں کا طریق عمل اس امر کو تو ثابت کر سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کو کس طرح کیا یا کس کس طرح کیا لیکن یہ بات تواتر اور عمل سے نہیں معلوم ہو سکتی تھی کہ کئی طریقوں پر جو کام کیا گیا ہے ان میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ پسندیدہ کون سا طریق تھا یا کس طریق پر آپ خود اکثر عمل فرماتے تھے ایک سالک راہ کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق کے لئے یہ علم نہایت ہی دل کو تقویت دینے والا اور معلومات کے ذخیرہ کو بڑھانے والا ہے۔علم حدیث کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم کے وہ بہت سے معارف جسے ایک عام انسان خود نہیں معلوم کر سکتا تھا بلکہ اعلیٰ درجہ کی روحانیت کے حصول کے بغیر ان پر اطلاع ہی نہیں ہو سکتی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ظاہر کر دیئے گئے ہیں اور ہر ایک شخص ان سے فائدہ اٹھا کر قرآن پر تدبر کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے مثلاً قرآن کریم میں دوزخ کا عذاب ابدی قرار دیا گیا ہے مگر اسے غیرمتناہی نہیں قرار دیا گیا لیکن عام طور پر لوگ اس امر کو نہیں سمجھ سکے اور انہوں نے قرآن کریم کی آیت رحمتی وسعت علی کل شیء کی تہہ کو نہیں پایا۔اور نہ امہ ھاویة ۴ کی آیت پر غور کیا کہ کیا کوئی شخص ماں کے پیٹ میں ہمیشہ رہتا ہے اور نہ ہی سوچا کہ جنت کے انعامات کی نسبت کیوں باوجود ابد کے الفاظ استعمال ہونے کے غير مجذوذ (نہ کٹنے والے) اور غیر ممنون (نہ کٹنے والے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور کیوں دوزخ کی نسبت یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ليأتين على جهنم زمان ليس فيها احد فرما کر اس نکتہ معرفت کو جو سِرَّ خلق کی جان اور معرفت کی روح ہے ہر ایک شخص تک پہنچا دیا اب جو شخض ضدّ اور تعصب سے خالی ہو اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔