انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 268

انوار العلوم جلد9 ۲۶۸ مسکینوں اور قیدیوں کو کھلا آتے ہیں۔پھرانما نطعمکم لوجہ الله لا تريد منكم جزاء ولا شکورا یہ کھانا کھا کر احسان نہیں جتاتے کہ فلاں وقت ہم نے یہ احسان کیا تھایا دعوت دی تھی بلکہ ان کا احسان اپنے اوپر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہم کو نیکی کا موقع دیا۔ان کو کسی کے ساتھ سلوک کرنے میں مزا آتا ہے۔پس مؤمن جس کے ساتھ سلوک کرتا ہے اس کا احسان سمجھتاہے کہ اس نے شکر کا موقع دیا۔على حبہ کا یہ مطلب ہے کہ یہ جو کچھ کرتا ہے اللہ ہی کے لئے کرتا ہے۔شہرت کے لئے نہیں کرتا۔تو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کرتا ہے اس کا ایک ہی مقصود ہوتا ہے کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔پھر ان کی احسان کرنے کی ایک اور بھی غرض ہوتی ہے۔اور وہ یہ کہ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا- اس دن خدا ہمارے کام آئے جو کہ بہت ڈراؤنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم کو ان خطرات سے بچائے اور ہم پر رحم کرے۔ایسے لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًا۔ایسے ایمان والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ٰایسا سلوک کرے گا کہ وہ قیامت کے دن محفوظ رہیں گے اور ان کو اچھا بدلہ دے گا۔پھرفرماتا ہے وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًا۔یہ بدلہ ان کو ان کے ایمان کے بدلے میں ملے گا۔مُّتَّكِـٕیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآىٕكِۚ-لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاوہ سب سب کے سب بادشاہ ہوں گے۔وہاں نہ گرمی ہوگی نہ سردی۔وہ ایک نئی دنیا ہو گی وہاں گرمی بھی نہیں ہوگی یعنی نہ وہاں جوش آۓ گا اور نہ ٹھنڈہی ہوگی۔یعنی نہ جوش کم ہو جائے گا ایک ہی رنگ ہو گا۔دیکھو قرآن کریم کی تعلیم کیا پرحکمت ہے قرآن نے دوزخ کے عذاب میں بتلا دیا کہ وہاں سردی کا بھی عذاب ہو گا اور گرمی کا بھی۔سرد ملکوں کے لوگوں کو سردی کے عذاب سے ڈرایا ہے اور گرم ملکوں کے لوگوں کو گرمی سے۔بعض ملک اسقدر برفانی ہیں کہ وہاں کے لوگ برف ہی کے مکان بنا لیتے ہیں۔وہاں پر اگر کسی کو پانی پینا ہوتا ہے تو برف کو رگڑ رگڑ کر پانی بناتے ہیں۔وہاں آگ ایک نعمت سمجھی جاتی ہے۔چونکہ انجیل میں صرف آگ کے عذاب کا ہی ذکر ہے اس لئے جب اس برفانی ملک میں ایک پادری گیا اور وہاں جا کر عیسائیت کی تبلیغ کی اور کہا کہ اگر تم نہ مانو گے تو خدا تم کو آگ میں ڈالے گا تو لوگ یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ اوہو! ہم آگ میں ڈالے جائیں گئے۔کیونکہ آگ ان کے لئے نعمت تھی۔اس طرح جب پادریوں نے دیکھا کہ یہ آگ سے نہیں ڈرتے تو انہوں نے ایک کمیٹی کی اور کہا کہ آگ کی جگہ برف کاعذاب لکھ دو۔مگر قرآن شریف میں