انوارالعلوم (جلد 9) — Page 228
۲۲۸ اِسی لئے دل بیت اللہ کہلاتا ہے اور جو دل کو خراب کرتا ہے وہ گویا خدا کو اس کے گھر میں آنے سے روکتا ہے۔(۴) احکام شریعت کا انکار (۵) پانچویں بدی عقائد باطلہ میں مثلاً شرک وغیرہ۔(۶) چھٹی بدی تمام عقائد حقہ کا انکار ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ کا، ملائکہ کا، رسولوں کا، الہام کا بہشت کا، دوزخ کا انکار۔(۷) ساتویں بدی احکام شریعت کا خواہ وہ عبادت کے متعلق ہوں یا تمدّن کے متعلق توڑنا ہے۔جیسے نماز نہ پڑھنا۔حج نہ کرنا۔ورثہ کے متعلق جو احکام ہیں اُن کی تعمیل نہ کرنا۔اخلاق کی پابندی نہ کرنا۔کیونکہ جب ان احکام کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر لیا ہے تو اُن کو توڑنا گویا اللہ تعالیٰٰ کو ناراض کرنا ہے۔پس جس طرح اِن امور کی پرواہ کرنے سے بندوں کو تکلیف ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی بھی ناراضگی ہوتی ہے۔(۸) آٹھویں بدی خدا تعالیٰ سے محبت میں کمی ہے۔(۹) نویںبدی خدا تعالیٰ اور رسول کی بے ادبی ہے۔(۱۰) جسقدر بدیاں دوسروں سے تعلق رکھتی ہیں وہ خدا تعالیٰ سے متعلق بھی ہیں۔مثلاً ناشکری ہے۔یہ انسانوں کے متعلق ہوتی ہے۔اور خدا تعالیٰ کے متعلق بھی ہو سکتی ہے۔اِسی طرح اور بھی کئی باتیں ہیں۔اب مَیں نیکیاں بیان کرتا ہوں۔پہلے ذاتی نیکیاں لیتا ہوں۔(۱) شجاعت بہادری (۲) چستی (۳) علم سیکھنا (۳) تواضع (۵) غیرت یعنی کوئی بدی ہوتی دیکھے تو بُرا منائے (۶) شکر (۷) حُسن ظنی (۸) دلی خیرخواہی (۹) محنت یعنی خوب کام کرنے کی عادت (۱۰) حیا (۱۱) رحم دلی۔کسی کی تکلیف کو دیکھ کر اس کے متعلق احساس ہونا (۱۲) استقلال یعنی نیکی کو جاری رکھنا۔(۱۳) وقار یعنی بے فائدہ اور بلاوجہ دوسروں کی کسی بات میں نقل نہ کرنا۔ہمارے ملک میں یہ عیب بہت پایا جاتا ہے۔جو بات انگریز کریں اس کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں۔(۱۴) بلند ہمتی (۱۵) صبر (۱۶) حریّت ضمیر یعنی بلا وجہ کسی کی تقلید نہ کرنا۔(۱۷) شکر قلبی یعنی دل میں محسوس کرنا کہ فلاں نے احسان کیا ہے۔(۱۸) تحقیق حق یعنی سچائی کو تلاش کرنا۔(۱۹) کسی کی خوبی کا دلی اعتراض۔(۲۰) رافت۔رحم دلی اور رافت میں یہ فرق ہے کہ رحمدلی تو یہ ہے کہ لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر مدد دینے کا خیال پیدا ہونا۔اور رافت یہ ہے کہ کسی کی تکلیف کو دیکھ کر دُکھ محسوس