انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 219

۲۱۹ (۱۳) بے استقلالی- ایک کام اختیار کرنا اور بغیر سر انجام دئے چھوڑ دینا بے استقلالی ہے۔(۱۴) سُستی- اس کی وجہ سے انسان کام ہی نہیں کرتا۔(۱۵) غفلت (۱۶) حق کا انکار (۱۷) حق کے اقرار کی جرأت کا فقدان۔(۱۸) ناجائز نزاکت- یعنی وہ وجود جنہیں نزاکت نہ کرنی چاہئے۔وہ کریں۔یا کوئی اس حد تک نزاکت کرے کہ عمل سے ناکارہ ہو جائے۔(۱۹) جہالت- یعنی علم حاصل نہ کرنا۔(۲۰) حرص- اس میں مبتلا ہونا بھی بُرائی ہے۔(۲۱) ریاء- یعنی لوگوں کو دکھانے کے لئے کام کرنا۔(۲۲) بد خواہی- دل میں دوسرے کے نقصان کی خواہش رکھنا۔(۲۳) ہمت ہار بیٹھنا-ذرا مشکل کا سامنا ہوا اور کام چھوڑ دیا۔یہ بھی خاص طور پر اُمراء کی بدی ہے۔(۲۴) بدی سے محبت- یعنی بدی کو دیکھ کر بُرا نہ منانا بھی گناہ ہے۔(۲۵) ہر قسم کا نشہ بھی بدی ہے۔اس میں شراب،افیون، بھنگ، نسوار، چائے، حقہ سب چیزیں شامل ہیں۔بعض چیزیں ایسی ہیں جو غذا کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں جیسے چائے ہے۔اگر اسکی ایسی عادت ہو کہ چھوڑنے پر صحت پر اثر پڑے تو اس کا استعمال بھی بُرائی ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک وقت یہ ضرورت پیش آئے کہ انسان دور دراز دیہاتوں میں تبلیغ کے لئے جائے اس وقت اگر وہ سماوار اٹھا لے جائے اور چائے کا انتظام کرنا چاہے تو یہ ایسا بوجھ ہوگا جس کی وجہ سے وہ بہت مشکلات میں مبتلا ہوگا۔چونکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک مسلمان سپاہی بنے اور جہاں بھیجا جائے فوراً چلا جائے۔اس لئے وہ اس قسم کی عادتوں سے منع کرتا ہے جو روکاوٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔مَیں نے کئی دفعہ سُنایا ہے۔ایک دفعہ ایک سفر میں ایک پٹھان کی نسوار ختم ہو گئی تو اُس نے ایک کشمیری سے نہایت لجاجت کے ساتھ پوچھا۔کیوں بھئی تمہارے پاس نسوار ہے۔یہ دیکھ کر میں نے کہا۔نسوار نے اس کی گردن اس کے سامنے جھکائی ہے۔یہاں کئی لوگ آتے ہیں جنہیں حقہ کی عادت ہوتی ہے پھر وہ اس کی وجہ سے کئی فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ابتداء میں ہمارے ایک رشتہ دار تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام