انوارالعلوم (جلد 9) — Page 217
۲۱۷ بھی پہرہ ہوتا تھا۔کوئی کہے وہ اپنی جان کی حفاظت دوسروں سے مقدم سمجھتے تھے۔مگر ایسا کرنا ضروری تھا۔کیونکہ آپ کی حیات سے دنیا کی زندگی وابستہ تھی۔اگر آپ نہ ہوتے تو دنیا میں اسلام کس طرح قائم ہوتا؟ تو بعض انسانوں کا آرام اور صحت کا قائم رکھنا نیکی ہوتی ہے۔اس کے خلاف کرنا گناہ ہوتا ہے۔شیخ عبد القادر صاحبؓ جیلانی ایک کتاب میں فرماتے ہیں کہ مجھ پر ایسی حالت آتی ہے کہ جبتک خدا مجھے نہیں کہتا کہ عبدالقادر اُٹھ تجھے میری جان کی قسم کھانا کھا لے تو مَیں کھانا نہیں کھاتا۔اور جبتک وہ نہیں کہتا کہ میری جان کی قسم کپڑا پہن تو میں نہیں پہنتا۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اس مرتبہ کے انسان کو خدا کہتا ہے کہ اپنی خاطر نہیں میرے لئے یہ کام کر تو وہ کرتا ہے۔کیونکہ وہ سب کچھ خدا کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔پس گناہوں کے اسقدر مدارج ہیں کہ انسان کی حالت کے ساتھ ساتھ انکی کیفیت بھی بدلتی رہتی ہے۔اسی لئے صوفیا، کہتے ہیں کہ ابرار کے گناہ عوام کی نیکیاں ہوتی ہیں۔اَب میں موٹی موٹی تشریح بدیوں کی کرتا ہوں۔اوّل وہ بدیاں جو ذاتی ہوتی ہیں۔یعنی جن کا اثر انسان کے اپنے نفس پر پڑتا ہے۔(۲) وہ بدیاں جو دوسروں سے تعلق رکھتی ہیں۔یعنی اُن کا اثر انسان کے اپنے نفس پر ہی نہیں پڑتا بلکہ دوسروں پر بھی اُن کا اثر ہوتا ہے۔(۳) وہ بدیاں جو قومی ہوتی ہیں۔یعنی قوم کی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ بدی ہوتی ہے۔(۴) وہ بدیاں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔اس کے مقابلہ میں نیکیوں کی بھی چار قسمیں ہیں (۱) ذاتی نیکیاں یعنی جن کا اثر انسان کی اپنی ذات پر پڑتا ہے۔(۲) وہ نیکیاں جو دوسروں سے بھی تعلق رکھتی ہی۔یعنی جن کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔(۳) قومی نیکیاں جو بحیثیت قوم نیکیاں سمجھی جاتی ہیں۔(۴) وہ نیکیاں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔اَب مَیں اُن بدیوں کو بیان کرتا ہوں جو ذاتی بدیاں ہیں اور ان کی موٹی موٹی بدیوں کی لسٹ دیتا ہوں تاکہ ان کے ذہن میں آنے سے ان سے بچنے کی طاقت پیدا ہو۔ان سے آگے جو بدیاں ہیں وہ الہام کے ذریعہ بتائی جاتی ہیں۔(۱) تکبر یعنی اپنے نفس میں اپنے آپکو بڑا سمجھنا۔کسی اور پر ظاہر کئے بغیر ایک شخص اپنے نفس میں سمجھتا ہے کہ مَیں بڑا آدمی ہوں تو یہ بات اس کے نفس کو طہارت حاصل کرنے سے