انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 216

۲۱۶ ایسی بات ہے کہ نوکر کو کہیں فلاں اسباب اُٹھا کر اندر رکھ دو۔نوکر رکھنے کے لئے مستعد ہو۔اور ہم نے اُسے کہہ دیا کہ رکھ دو۔لیکن اگر اُسے یہ پتہ نہیں کہ کہاں کہاں رکھنا ہے تو وہ میز کی جگہ کُرسی اور کُرسی کی جگہ میز رکھ دیگا۔یہی حال اس شخص کا ہو سکتا ہے جسے نیکیوں کے کرنے اور بدیوں سے بچنے کے مواقع کا علم نہ ہو۔پس مواقع کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے۔(۳) یہ معلوم ہو کہ کونسی بدیاں میرے اندر ہیں جنہیں مَیں نے دور کرنا ہے۔جب تک اس بات کا علم نہ ہو وہ اپنا علاج کس طرح کرا سکتا ہے۔پس روحانی علاج کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ معلوم ہو کہ میرے اندر کیا کیا بدیاں ہیں۔اور کون کون سی نیکی کی کمی ہے تاکہ بدیوں سے بچوں۔اورنیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کروں۔اگر ایک شخص کے قلب میں زنگ اور تاریکی اور روکاوٹ نہیں ہے تو اوپر کی باتیں معلوم ہونے پر وہ نیک ہو جائیگا جب تک اپنی کمزوریوں کا علم نہ ہو۔کوئی انسان علاج نہیں کر سکتا۔اور اگر معلوم ہو جائیں تو نہایت آسانی سے علاج کر سکتا ہے۔اَب میں ان تینوں باتوں کی موٹی موٹی تشریح بیان کرتا ہوں۔اوّل میں بدیوں اور نیکیوں کے علم کو لیتا ہوں۔مَیں نے دیکھا ہے بہت لوگ ایسے موجود ہیں کہ اُن میں استعداد ہے کہ نیک ہو جائیں مگر انہیں بدیوں اور نیکیوں کا پتہ نہیں ہوتا۔کئی لوگ مردوں میں سے بھی اور عورتوں میں سے بھی کہتے ہیں۔کیا ہم میں (۱) فسق و فجور ہے۔(۲) ظلم ہے۔(۳) ہم لوگوں کا مال کھا جاتے ہیں۔(۴) جھوٹ بولتے ہیں۔(۵) زنا کرتے ہیں۔اگر نہیں تو پھر ہم میں کونسی بُرائی ہے۔گویا جن میں یہ باتیں نہ ہوں وہ سمجھتے ہیں ان میں کوئی عیب نہیں ہے اور لوگ یہ پانچ عیب شرعی قرار دیا کرتے ہیں گویا اس سے زیادہ عیب نہیں۔حالانکہ یہ لمبا سلسلہ چلتا ہے اور عیب سینکڑوں تک پہنچتے ہیں۔اس وقت اِن سب کا بیان کرنا مشکل ہے۔وقت کے لحاظ سے بھی اور یوں بھی کہ بعض عیب انسان کے علم سے اوپر ہوتے ہیں اور ایسا انسان جسے سب عیوب کا علم تھا وہ محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی کی ذات تھی اور انسانوں کو بھی عیوب کی اطلاع دی جاتی ہے مگر اسقدر علم کسی انسان کو نہ ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے جسقدر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تھا۔ایک دفعہ مَیں نے رؤیاء میں دیکھا کہ مَیں دوست کو سمجھا رہا ہوں کہ ورزش نہ کرنا بھی گناہ ہے مگر یوں ہم اسے گناہ نہیں کہتے۔لیکن ایک انسان جسکی زندگی پر لاکھوں انسانوں کی زندگی کا مدار ہو۔اگر وہ اپنی زندگی کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ گناہ کرتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بڑھ کر کون بہادر ہو سکتا ہے مگر جنگ میں آپکی حفاظت کے لئے پہرہ ہوتا تھا اور آپ کے گھر پر